اساتذہ کوآبائی وطن جانےکی اجازت دینےکامطالبہ

Updated: May 03, 2021, 1:05 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے گرمی کی چھٹیوں کا اعلان تو کردیاہے مگر کچھ اضلاع میں ٹیچروںکو صدرمقام چھوڑکرنہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

کوروناوائرس کی وباء کی وجہ سے گزشتہ ۱۵؍مہینے سے جہاں عام زندگی بری طرح متاثر رہی ہے وہیں تعلیمی نظام بھی پوری طرح ڈگمگاگیاہے۔ اس وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان تو ہواہی ہے ساتھ میں اسکولوںکےبندہونے سے طلبہ اور ان کے والدین کو اسکول اور تعلیم سے جوڑے رکھنےکےمعاملہ میں اسکولی عملے کی ذمہ داری مزید بڑھا دی گئی ہے۔ مارچ ۲۰۲۰ء سے اسکول اورکالج بند ہیں مگر طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو اس لئے انہیں آن لائن تعلیم دی جارہی ہے ۔ ساتھ ہی لاک ڈائون نافذ ہونے سے اساتذہ کو گزشتہ سال سے گرمی ، دیوالی ، گنپتی اور کرسمس وغیرہ کی چھٹی بھی کم دی گئی تھیں ۔اس  وجہ سے ہزارو ں اسکولی عملہ گزشتہ سال سے اپنے آبائی وطن نہیں جا سکاہے۔اس لئے امسال متعدد تعلیمی تنظیموں نے گرمی کی پوری چھٹی دیئے جانے کا مطالبہ کیاتھا۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے۳۰؍اپریل کو گرمی کی چھٹی سے متعلق سرکیولر جاری کرکے ۱۴؍جون تک گرمی کی چھٹی دیئے جانےکا اعلان تو کیاہے مگر جو عملہ کوڈوکی ڈیوٹی پر مامور ہے اسے اگلی اطلاع تک ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت سے کووڈ کی ڈیوٹی کرنےوالے اساتذہ پریشان ہیں۔ ان میںمتعدد ایسے اساتذہ ہیں جو گزشتہ ایک سال سےآبائی وطن نہیں گئے ہیں ۔ وہ اپنےگائوں جانا چاہتےہیں۔ علاوہ ازیں کووڈ کی ڈیوٹی دیئے جانے سے اساتذہ کووڈ سےمتاثر بھی ہور ہے ہیں جس کی ایک مثال ناسک کے ۴۸؍سالہ ٹیچر ہیں جو کووڈ میں مبتلاہونےسے اسپتال داخل ہیں ۔
 اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے ساجد نثار نے بتایاکہ ’’ ریاستی محکمہ ٔ  تعلیم نے گرمی کی چھٹی کا اعلان تو کردیاہے مگرکچھ ضلع اور تعلقہ کی سطح پر ایجوکیشن افسران نے زبانی اور تحریری طورپر ہدایت دی ہے کہ اسکولی عملہ صدرمقام چھوڑ کرنہ جائے ۔ علاوہ ازیں جو عملہ کووڈ کی ڈیوٹی پر مامور ہے وہ اگلی اطلاع تک ڈیوٹی انجام دے۔  اس کی وجہ سے ان اساتذہ میں بے چینی پائی جارہی ہے جو گزشتہ ایک سال سے اپنے آبائی وطن نہیں گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے، نائب وزیر اعلیٰ  اجیت داداپوار، وزیر صحت راجیش ٹوپے اور وزیر تعلیم ورشا گائیکواڈ کو مکتو ب روانہ کرکے اساتذہ کو آبائی وطن جانےکی اجازت دیئے جانےکا مطالبہ کیاہے۔‘‘
  انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’ مجھے خود کووڈ کی ڈیوٹی دی گئی ہے ۔ میں اپنے ساتھی ٹیچروںکے ساتھ کووڈ کی ڈیوٹی کررہاہوں ۔ مگر کووڈ کی ڈیوٹی کرنے سے اساتذہ دوبارہ کووڈمیں مبتلاہورہے ہیں ۔ ہم ۱۷؍ اپریل سے ناسک ضلع کے ایک تعلقہ میں کووڈ ڈیوٹی کررہےہیں۔ لاسل گائوں کے ضلع پریشد مراٹھی اسکول کے ۴۸؍سالہ آکاش بھالے رائو میرے ساتھ ہی ڈیوٹی کررہےتھے ۔بھالے رائوفی الحال ناسک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی رپورٹ کوروناپازیٹیو آئی ہے۔ ا ن کی وجہ سے ان کی اہلیہ بھی کوروناسے متاثر ہوگئی ہیں۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK