اغوا، تاوان کی مانگ اور قتل کے کیس میں ۱۹۹۷ء میں عمر قید کی سزا پائی تھی مگر ۲۰۰۰ء میں ضمانت پر رہا ہوا اور پھر اپنی شناخت بدل کر غازی آباد میں رہ رہاتھا۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 11:36 AM IST | Mumbai
اغوا، تاوان کی مانگ اور قتل کے کیس میں ۱۹۹۷ء میں عمر قید کی سزا پائی تھی مگر ۲۰۰۰ء میں ضمانت پر رہا ہوا اور پھر اپنی شناخت بدل کر غازی آباد میں رہ رہاتھا۔
مرتد سلیم واستک جو خود کو ’’ایکس مسلم ‘‘ کے طور پر متعارف کراتا ہے اور اپنے یوٹیوب چینل پر مسلمانوں اوراسلام کے خلاف زہر افشانی کیلئے بدنام ہے، قتل کا سزا یافتہ مجرم نکلا جو اپنی شناخت چھپا کر رہ رہاتھا۔ سنیچر کو دہلی پولیس نے اسے غازی آباد گرفتار کرلیا۔ واضح رہے کہ اسلام کے خلاف زہر افشانی کی وجہ سے اس پرحملہ ہوا تھا اور وہ اسپتال میں زیر علاج تھا۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے: گاؤں دیوی میدان میں یکم تا ۱۰؍ مئی مینگو فیسٹیول کا انعقاد
پولیس ذرائع کے مطابق۵۰؍ سالہ سلیم۲۵؍برسوں سے مفرور تھا۔ غازی آباد کے پولیس کمشنر جے رویندر گور نے بتایا کہ دہلی پولیس سنیچر کی صبح اس کی رہائش گاہ پر پہنچی اور پوچھ گچھ کے بعد اسے حراست میں لے لیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیم نے۲۰؍ جنوری ۱۹۹۵ء کو دہلی کے ایک تاجر کے۱۳؍ سالہ بیٹے سندیپ بنسل کو اغوا کیا تھا۔ جب خاندان تاوان کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہا تو اس نے لڑکے کو قتل کر دیا۔ اس کیس میں اسے کورٹ نے ۱۹۹۷ء میں عمر قید سنائی تھی تاہم ۲۰۰۰ءمیں اسے ضمانت مل گئی اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہو گیا۔ تب سے وہ شاملی، مظفر نگر، میرٹھ اور غازی آباد میں مختلف شناختوں کے تحت رہ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غازی پور میں کمسن کی آبرویزی اور قتل پر وزیراعظم کے دورہ کے پیش نظر ہنگامہ
وہ اس وقت غازی آباد ضلع کے لونی علاقے کی اشوک وہار کالونی میں رہ رہاتھا اور ’’سلیم واستی ۰۰۰۷‘‘ کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتا تھا جس میں اسلامی تعلیمات اور مدرسوں کے نظام پر سوالات اٹھاتا رہا ہے۔ اس کی زہر افشانیوں کی وجہ سے ۲۷؍ فروری کو اس پر اس کے دفتر کے اندر نقاب پوش حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ اسے متعدد بار چاقو مارا گیا جس سے ۱۴؍ زخم آئے۔ دہلی کے جی ٹی بی اسپتال میں اس کا تقریباً ایک ماہ تک علاج جاری رہا جس کے دوران ۲؍ آپریشن بھی ہوئے۔ اس بیچ دہلی پولیس کو یہ اطلاع ملی کہ سلیم واسنک دراصل سلیم خان ہے جو ۲۰۰۰ء میں ضمانت ملنے کے بعد سے فرار ہے جس کے بعد سنیچر کو دہلی پولیس نے غازی آباد پہنچ کر اسے گرفتار کرلیا۔ فروری میں اس پر حملہ کرنےوالے ۲؍ بھائیوں میں سے ایک یوپی پولیس کے انکاؤنٹر میں جاں بحق ہوگیاہے۔