تعلیمی تنظیموں نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے ریاستی وزیر آشیش شیلار کو تحریری درخواست دی ۔ بتایا کہ بہت سے بچے موبائل فون کا غلط استعمال کر رہے
ہیں۔ اس سے ان میں ذہنی ارتکاز کی کمی، چڑچڑاپن، نیند کے مسائل، تعلیم میں ناکامی، ذہنی تناؤ اور نشے کی لت جیسے سنگین مسائل پیدا ہور ہےہیں
موبائل فون پر گیم کھیلنے کی لت کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہورہی ہے
تعلیمی تنظیموں نے انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیرآشیش شیلار سے ۱۸؍ سال سے کم عمر کے طلبہ میں موبائل گیمز کھیلنے کی بری لت کوروکنےکیلئے ان پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست میں۱۸؍ سال سے کم عمر کے ۴؍کروڑ سے زیادہ بچے ہیں جن میں تقریباً ۳؍کروڑ بچے ۱۵؍ سال سے کم عمر کے ہیں۔ یہ بچے تعلیم، مطالعہ، آن لائن کلاسیز اور عام معلومات حاصل کرنےکیلئے موبائل فون کا استعمال کر رہے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے بچے موبائل فون کا غلط استعمال کرکے مختلف آن لائن گیمز میں حد سے زیادہ ملوث ہیں جس سے ان بچوں میں ذہنی ارتکاز کی کمی، چڑچڑاپن، نیند کے مسائل، تعلیم میں ناکامی، ذہنی تناؤ اور نشے کی لت جیسے سنگین مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
مہاراشٹر شکشک پریشد کے کارگزار صدر شیوناتھ دراڈے نے اس نمائندے کوبتایاکہ ’’اسکول کے طلبہ میں بڑھتی ڈیجیٹل لت کو روکنے کیلئے موبائل فون کےتمام گیمز پر پابندی لگانے کی ازحد ضرورت ہے۔اگر ان آن لائن گیمز پر پابندی نہیں لگائی گئی تو ہمیں مستقبل میں خطرناک نتائج بھگتنے ہوںگے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ ریاست میں ۱۸؍ سال سے کم عمر کے تقریباً ۴؍کروڑ سے زیادہ بچے ہیںجن میں سے تقریباً ۳؍کروڑ بچے ۱۵؍سال سے کم عمر کے ہیں۔ یہ بچے تعلیم، مطالعہ، آن لائن کلاسیزاور عام معلومات حاصل کرنے کیلئے موبائل فون کا استعمال کر رہے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے بچے اس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔یہ بچے مختلف قسم کے آن لائن گیمز میں حد سے زیادہ ملوث ہیں۔ اس کی وجہ سے بچوں میں ارتکاز کی کمی، چڑچڑاپن، نیند کے مسائل، تعلیم میں ناکامی، ذہنی تناؤ اور نشے کی لت جیسے سنگین مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔یہ صورتحال صرف والدین کیلئے نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کیلئے بہت سنگین ہے۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ہماری آج کی نسل کل کی ذمہ دار شہری بننے والی ہے۔ایسے میں بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور سماجی صحت پر مضر اثرات مرتب کرنے والے تمام موبائل گیمز پر فوری طور پر پابندی یا سخت پابندیاں عائد کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ریاست بھر میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں سخت تشویش اور ٹھوس اقدامات کا مطالبات کر رہی ہیں۔اسی وجہ سے ہم نے ریاستی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی آشیش شیلار سے تحریری طورپر درخواست کی ہےکہ ایسے سبھی آن لائن گیمزپر پابندی عائد کریں جو طلبہ استعمال کررہےہیں۔ ہمیں ایسے بچوں کی نشاندہی کرنی چاہئے جن کا موبائل گیمز کی وجہ سے تعلیمی نقصان ہورہاہے اور فوری طور پر ان کی کائونسلنگ کرنی چاہئے۔‘‘
مہاراشٹراسٹیٹ شکشک سینا کے صدر پروفیسر جے ایم ابھینکر نے اس تعلق سےکہاکہ ’’موبائل فون کااستعمال دودھاری تلوار کے مترادف ہے۔ اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلوہیں۔اگر اس کا استعمال تعمیری کاموں کیلئے کیاجاتاہے تو فائدہ ہی فائدہ ہے لیکن لایعنی کاموںمیں اس کا استعمال تباہ کن ہے۔ایسےمیں والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ بچوںکو موبائل کے بے جااستعمال سے روکنےمیں یہ دونوں اہم کردار اداکرسکتےہیں۔ اساتذہ کو چاہئےکہ وہ طلبہ کو شروع سے موبائل کے غلط استعمال سے ہونےوالے نقصانات سے آگاہ کریں تاکہ وہ موبائل فون کے منفی استعمال سے دور رہیں ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ بچوںکے علاوہ ان کے سرپرستوںکی بھی کائونسلنگ ہونی چاہئے ۔اسکولوںمیں ہونے والی ’پی ٹی اے‘ میٹنگ میںکائونسلر کےذریعے سرپرستوںکی بھی رہنمائی کی جانی چاہئے ۔انہیں بتایاجائے کہ وہ اپنے بچوںکو موبائل فون کے اچھے اور برے استعمال سے کس طرح روک سکتےہیں ساتھ ہی اس ضمن میں انہیں بچوںکی نگرانی کس طرح کرنی ہے،تب ہی اس معاملہ میں کامیابی ملنے کی اُمید ہے ورنہ موبائل کے غلط استعمال سے بڑا نقصان ہونے کاقوی امکان ہے۔‘‘
یاد رہے کہ یوپی کے غازی آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کی تین نابالغ سگی بہنوں نے مبینہ طور پر عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں بہنیں ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی کوریائی ’’لوَر گیم‘‘ سے منسلک اور کافی عرصے سے اس میں سرگرم تھیں۔