• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: لاپتہ ایک لاکھ میں سے ۹۷۰۰؍ کے بارے میں معلومات: الہ آباد ہائی کورٹ برہم

Updated: February 05, 2026, 10:10 PM IST | Allahabad

یوپی میں لاپتہ ایک لاکھ ۸؍ ہزار میں سے صرف ۹۷۰۰؍ کے بارے میں معلومات ملیں، جس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سرکاری بے حسی قرار دیا۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

 الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل)پر سماعت کرتے ہوئے اترپردیش حکومت کے اس اعتراف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ جنوری۲۰۲۴ء سے جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان ریاست میں تقریباًایک لاکھ ۸؍ ہزار ۳۰۰؍ گمشدہ افراد کے مقدمات درج ہوئے، لیکن پولیس نے صرف۹۷۰۰؍ معاملات میں ہی ان افراد کو ڈھونڈنے کی کارروائی کی۔’’ مسنگ پرسن ان دی اسٹیٹ‘‘ کے عنوان سے یہ عوامی مفاد کی عرضی جسٹس عبدالمعین اور جسٹس بابیندا رانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنی، جس نے کہا کہ یہ اعداد و شمار شہریوں کی طرف سے درج شکایات کے ازالے میں ممکنہ سرکاری (انسٹی ٹیوشنل) بے حسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۹۸۲ء قتل کیس میں تقریباً ۱۰۰؍ سالہ ملزم کو بری کیا

بعد ازاں بینچ نے متنبہ کیا کہ یہ معاملہ براہِ راست عوامی سلامتی اور اپنے گمشدہ رشتہ داروں کی تلاش میں مصروف خاندانوں کے حقوق کو متاثر کرتا ہے۔واضح رہے کہ یہ کارروائی وکرم پرساد کی جانب سے دائر ایک رٹ پٹیشن سے شروع ہوئی، جن کا بیٹا جولائی۲۰۲۴ء میں ریاستی دارالحکومت سے لاپتہ ہو گیا تھا۔کورٹ نے اس سے قبل اس معاملے میں متعلقہ حکام کے سلوک کو عامیانہ اور غیر سنجیدہ رویے کی مثال قرار دیا تھا۔۲۹؍ جنوری کو بینچ نے نوٹ کیا کہ ایف آئی آر صرف دسمبر۲۰۲۵ء میں، یعنی لاپتہ ہونے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد درج کی گئی، اور وہ بھی ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد، جس سے پولیس مشینری کی جواب دہی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔بینچ نے اس سے قبل لکھنؤ کے پولیس کمشنر کے حلف نامے پربے اطمینانی کا اظہار کیا تھا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ) کو گمشدہ افراد کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ریاست گیر حکمت عملیکی وضاحت کرنے کی ہدایت دی تھی۔جواب میں، اے سی ایس (داخلہ)نے پولیس ٹیکنیکل سروسز ہیڈکوارٹر کے اعداد و شمار پر انحصار کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ سی سی ٹی این ایس میں دستیاب اعدادوشمار کے مطابق،ایک جنوری ۲۰۲۴ء سے ۱۸؍ جنوری ۲۰۲۶ءتک، تقریباًایک لاکھ ۸؍ ہزار ۳۰۰؍ گمشدہ افراد کے اندراج ہوئے ہیں، جن میں سے متعلقہ کمیشنریٹ/اضلاع نے تقریباً۹۷۰۰؍ معاملات میں ہی گمشدہ افرد کو ڈھونڈنے کی کارروائی کی تفصیلات درج کی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سو ایف آئی آر کی دھمکی، انسانی حقوق کے محافظوں کوخاموش کرانے کی کوشش: ہرش مندر

دریں اثناء اعداد و شمار کو ’’حیرت ناک‘‘ قرار دیتے ہوئے، کورٹ نے کہا کہ یہ ڈیٹا پورے ریاست میں گمشدہ افراد کی شکایات کے ازالے سے غیر سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ کہ داخلہمحکمے کے ایک سینئر اہلکار کی طرف سے حلف نامے میں درست اور قابل اعتماد معلومات کی توقع تھی۔کورٹ نے ڈی جی پی کے اس سرکلر کا بھی حوالہ دیا جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو صرف دو سے ڈھائی ماہ تک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور خبردار کیا کہ شکایات پر کارروائی میں تاخیر اہم ثبوت ضائع ہونے کا باعث بن سکتی ہے اور گمشدہ افراد کا پتا لگانا عملاً ناممکن بنا سکتی ہے۔بینچ نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک انفرادی کیس سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور اب اس میں ایک وسیع تر عوامی مفاد شامل ہو گیا ہے۔بعد ازاں اس معاملے کو باقاعدہ طور پر پی آئی ایل کے طور پر داخل کر لیا گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK