Updated: February 05, 2026, 10:09 PM IST
| Bulawayo
ہرارے اسپورٹس کلب میں جمعہ کوآئی سی سی انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ۲۰۲۶ء کے فائنل کے دوران شائقین کو چیلنجنگ مقابلے دیکھنے کو ملنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں اس چیلنجنگ مقابلے پر جمی ہیں، جہاں ایک طرف ہندوستان کی ریکارڈ ساز کارکردگی ہے تو دوسری طرف انگلینڈ کا ناقابلِ شکست سفر۔
انڈر ۱۹؍ٹیم۔ تصویر:آئی این این
ہرارے اسپورٹس کلب میں جمعہ کے روز آئی سی سی انڈر۱۹؍ ورلڈ کپ۲۰۲۶ء کے فائنل کے دوران شائقین کو چیلنجنگ مقابلے دیکھنے کو ملنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں اس چیلنجنگ مقابلے پر جمی ہیں، جہاں ایک طرف ہندوستان کی ریکارڈ ساز کارکردگی ہے تو دوسری طرف انگلینڈ کا ناقابلِ شکست سفر۔ ہرارے کی سست اور اسپنرز کے لیے سازگار پچ یہ فیصلہ کرے گی کہ باوقار ٹرافی کون اٹھائے گا۔
ہندوستان سیمی فائنل میں افغانستان کے خلاف محض۱ء۴۱؍ اوورز میں۳۱۱؍ رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرنے کے بعد بلند حوصلوں کے ساتھ فائنل میں پہنچا ہے۔ اوپنر ویبھو سوریاونشی بہترین فارم میں ہیں، جنہوں نے اب تک ۲۶۴؍ رنز بنائے ہیں، اور وہ فائنل میں بھی ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ مڈل آرڈر میں ویہان ملہوترا، آیوش مہاترے اور وکٹ کیپر ابھیگیان کنڈو ٹیم کو استحکام اور جارحیت فراہم کرتے ہیں۔
ہرارے کے ٹرننگ ٹریک پر ہندوستان کا اسپن اٹیک سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہینل پٹیل (۱۱؍ وکٹ) بولنگ لائن اپ کی قیادت کر رہے ہیں، جنہیں آر ایس امبریش اور کھلن پٹیل کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسپنرز فائنل میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:علی فضل کی ’’مرزا پور‘‘ ۴؍ ستمبرکو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی
دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم ٹورنامنٹ کی سب سے مستقل مزاج ٹیم رہی ہے جو اب تک ناقابلِ شکست ہے۔ سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف تھامس ریو کی سنچری اور بین میئز کی شاندار بیٹنگ نے ان کی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے۔ انگلینڈ کا پیس اٹیک، جس میں مینی لمسڈن اور سیبسٹین مورگن شامل ہیں، ہندوستانی ٹاپ آرڈر کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۹۸۲ء قتل کیس میں تقریباً ۱۰۰؍ سالہ ملزم کو بری کیا
ٹاس جیتنے والی ٹیم کے لیے پہلے بیٹنگ کر کے۲۶۰؍ سے۲۸۰؍ رنز کا اسکور بنانا ایک بہتر حکمتِ عملی ہوگی۔ یہ فائنل دراصل ہندوستان کی رفتار اور انگلینڈ کی مستقل مزاجی کے درمیان ایک بڑی لڑائی ہے۔ اگرچہ ہندوستان کو حالیہ کارکردگی کی بنا پر تھوڑی برتری حاصل ہے، لیکن انگلینڈ کی ٹیم اسے ایک یادگار مقابلہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔