ہائی کورٹ کے حکم کے باوجوددیونار میں قربانی کیلئے انتظامیہ کی رخنہ اندازی

Updated: August 04, 2020, 9:21 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

بڑے جانوروں کو لانے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کئی افراد قربانی کی ادائیگی سے محروم رہ گئے، صرف ۳۱۰؍جانوروں کی قربانی ادا کی گئی

Deonar Altar - Pic : Inquilab
بڑے جانورکم ہونے کی وجہ سے قربانی کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا

عیدالاضحی کے موقع پر دیونار سلاٹر ہاؤس میں قربانی کیلئے دئیے جانے والے ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کےبعد  انتظامیہ کی جانب سے ہونے والے انتظامات کےبعد بڑے جانوروں کی قربانی دیونار کے سلاٹرہاؤس میں کی گئی لیکن دیونار  انتظامیہ کے  ہی ذریعہ   قربانی کیلئے جو سرکیولر  جاری کیا گیا تھا  اس پر  خود ہی دیونار انتظامیہ کی جانب سے مبینہ  خلاف ورزی  کی گئی جس کے  سبب دیونار  مذبح میں بڑے جانور بہت ہی کم تعداد میں  آسکے۔
   دیونار سرکیولر کے حساب سے تینوں دن ملاکر ۴۵۰؍ بڑے جانور ذبح ہونے چاہئے تھے لیکن آن لائن خریدے گئے جانوروں کو لانے کی اجازت نہ ملنے کی جہ سے  اتنے بھی جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکی ۔ تیسرے دن دیونار میں صرف ۱۴۴؍ ہی بھینس اور پاڑے ذبح ہوئے ۔ اس طرح۳؍دنوں میں ۴۵۰؍ جانوروں میں سے ۳۱۰؍ جانوروں کی قربانی اد ا کی گئی ۔
  آل انڈیا جمعیت القریش کے قومی نائب صدر عمران بابو قریشی نے نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیونار میں بڑے جانو روں کی قربانی کے سلسلے میں۵؍ ہزار بڑے جانوروں کی قربانی کا مطالبہ کیا گیاتھا ۔ حالاں کہ ہر سال عید قرباں کے موقع پر ۱۰؍ سے ۱۲؍  ہزار بڑے جانوروں کی قربانی  ہوتی تھی ۔ عدالت نےدیونا ر میں قربانی کے جانوروں کےذبیحہ کیلئے کوئی تعداد نہیں بتائی تھی بلکہ دیونار انتظامیہ نے خود ہی سرکیولر جاری کرتے ہوئے  عیدالا ضحی کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے دن ۱۵۰؍ کے حساب سے ۴۵۰؍ بڑے جانوروں کی قربانی کرنے کو کہا  تھا ۔  سرکیولر کے حساب سے پہلے    دن ۱۵۰؍میں سے صرف ۳۳؍ جانور دبح کئے گئے ۔دیونار انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کئے جانے پر بامبے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے وکلا ءسے صلاح ومشورہ کیا جارہا ہے۔   راشٹریہ امن سینا کے صدر عبدالباری خان  نےکہا کہ حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق کئی لوگوں نے عدالت کا حکم آتے ہی آن لائن بڑے جانور خریدلئے تھے لیکن انھیں دیونار میں جانور لانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔دیونار میں موجود سید عبدالرحمان (عمران سر) محمد مزمل اور اقبال شیخ نے الزام لگایا کہ  ہم لوگوں کے علاوہ  دوسرے ۱۰۹ ؍افراد نے   بڑے جانوروں کی قربانی کیلئے آن لائن ممبئی اور دوسرے علاقوں  سے جانوروں کی خریداری کرلی تھی لیکن اجازت نہ ملنے کی وجہ سے قربانی کرنے سے محروم رہ گئے ۔
 دیونار مذبح کے ڈپٹی جنرل منیجر ڈاکٹر کلیم پٹھان کا کہنا ہے کہ  عیدالاضحیٰ کے آخری   دن تک آئے ہوئے  ۱۴۸؍ جانوروں میں سے ۱۴۴؍ جانو ر وں کی قربانی کی گئی ۔ فی الحال دیونار میں ۴؍ بڑے جانور رہ گئے ہیں ۔ اسی طرح پہلے دن ۳۳؍ اور دوسرے دن ۱۳۳؍ جانور ذبح کئے گئے تھے ۔اس کے علاوہ  قربانی کیلئے تینوں دنوں میں یومیہ  ۱۵۰؍ سے زائد قربانی کی اجازت نہیں تھی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK