غزہ کی امدادی کشتی ’’حنظلہ‘‘ پر سوار غیر ملکی کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جمعرات کو مسلسل پانچویں دن بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2025, 10:25 PM IST | Gaza
غزہ کی امدادی کشتی ’’حنظلہ‘‘ پر سوار غیر ملکی کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جمعرات کو مسلسل پانچویں دن بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے۔
غزہ کی امدادی کشتی پر سوار غیر ملکی کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جمعرات کو مسلسل پانچویں دن بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے۔ ’حنظلہ‘ نامی امدادی کشتی، جس میں بچوں کا دودھ، خوراک اور ادویات موجود تھیں، کو۲۶؍ جولائی کو غزہ کے ساحل کے قریب اسرائیلی فورسیز نے ضبط کر لیا تھا۔ کشتی میں ۲۱؍ غیر مسلح شہری سوار تھے جن میں ارکانِ پارلیمنٹ، طبی عملہ اور رضاکار شامل تھے۔ ’فریڈم فلوٹیلا کولیشن‘ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی شہری کرسچین سمالز اور تیونسی کارکن حاتم عوینی اب بھی اسرائیلی حراست میں راملا کے گیوون جیل میں قید ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پانچ دیگر کارکنوں کو جمعرات کی صبح فوری ڈی پورٹ کیلئے ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا۔ باقی تمام کارکنوں کو ان کے ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔ یہ امدادی کشتی اٹلی سے روانہ ہوئی تھی تاکہ غزہ پر مہینوں سے جاری اسرائیلی محاصرے کو توڑا جا سکے، جس نے۲۴؍ لاکھ آبادی کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
گزشتہ مہینوں میں اسرائیل نے بین الاقوامی پانی میں غزہ جانے والی کئی امدادی کشتیوں کو روکا ہے۔ جون میں اسرائیلی فورسیز نے ’میڈلین‘ نامی کشتی کو ضبط کیا اور اس پر سوار ۱۲؍ بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لیا جن میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن شامل تھیں۔ اس سے ایک ماہ قبل ’ایم وی کانشینس‘ نامی کشتی کو مالٹا کے قریب ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔