Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: اسرائیل، عرب امارات،کویت، قطر کو جدید ہتھیاروں کی فروخت کو منظوری

Updated: May 02, 2026, 6:02 PM IST | Washington

امریکہ نے ایران جنگ بندی کے درمیان اسرائیل، عرب امارات، کویت اور قطر کو ۶ء۸؍ بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی، یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل - امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کو ۹؍ ہفتے مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان کی ثالثی میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کو تین ہفتے سے زائد گزر چکے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو مجموعی طور پر ۶ء۸؍بلین ڈالر سے زائد کے فوجی ساز وسامان اور ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ خارجہ کی طرف سے جمعہ کو کیے گئے اعلانات میں قطر کو پیٹریاٹ فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی تجدید کی خدمات شامل تھیں جن کی مالیت۴؍ اعشاریہ صفر ایک بلین ڈالر ہے، نیز ایڈوانسڈ پریسجن کِل ویپن سسٹم (APKWS) جس کی مالیت ۹۹۲؍ اعشاریہ ۴؍ ملین ڈالر ہے۔ان اعلانات میں کویت کو مربوط جنگی کمانڈ سسٹم کی فروخت بھی شامل ہے، جس کی مالیت۲؍ اعشاریہ ۵؍ بلین ڈالر ہے، اور اسرائیل کو ایڈوانسڈ پریسجن کِل ویپن سسٹم کی فروخت بھی شامل تھی جس کی مالیت ۹۹۲؍ اعشاریہ ۴؍ ملین ڈالر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: سرکاری میڈیا

اس کے علاوہ محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو  ایڈوانسڈ پریسجن کِل ویپن سسٹم کی فروخت کی منظوری دی جس کی مالیت۱۴۷؍ اعشاریہ ۶؍ ملین ڈالر ہے۔محکمہ خارجہ کے مطابق قطر، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو کِل ویپن سسٹم کی فروخت میں بنیادی ٹھیکیداربی اے ای سسٹمز تھا۔محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ RTX اور Lockheed Martin کویت کو مربوط جنگی کمانڈ سسٹم کی فروخت اور قطر کو پیٹریاٹ فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی تجدید میں بنیادی ٹھیکیدار تھے۔

یہ بھی پڑھئے: آخرکار ڈونالڈ ٹرمپ کو’’امن کا نوبیل انعام ‘‘ملنے کی امید، کمیٹی کی ۲۸۷؍ نامزدگی

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ ۸؍ اپریل سے جنگ تعطل کا شکار ہے، اس دوران براہِ راست مذاکرات کا صرف ایک ناکام دور ہوا ہے۔ بعد ازاںایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے، جس سے تیل، گیس اور کھاد آمد و رفت کو روکا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر جوابی ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔ٹرمپ نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ وہ ایران کی نئی مذاکراتی تجویز سے مطمئن نہیںہیں۔ تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، ایران نے تجویز کا متن جمعہ کی شام ثالث پاکستان کو دے دیا، جبکہ اس کے مواد کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK