• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ترکی میں تباہ کن زلزلہ، شام بھی بُری طرح لرز اُٹھا،۲۳۰۰؍ افراد جاں بحق سیکڑوں عمارتیں زمیں بوس

Updated: February 07, 2023, 7:51 AM IST | Azmarin

ہزاروں زخمی،ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا قوی اندیشہ، علی الصباح ۷ء۸؍ کی شدت کے پہلے جھٹکے کے کچھ ہی دیر بعد ۷ء۵؍ کے جھٹکے نے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا

After the earthquake, the rescue workers and civilians were evacuating people trapped in the rubble of buildings and moving them to a safe place. (Photo: AP/PTI)
زلزلے کے بعد بچاؤ کارکن اور عام شہری عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے۔ (تصویر: اے پی/ پی ٹی آئی)

  ترکی میں  پیر کو علی الصباح   ۷ء۸؍ شدت کے انتہائی شدید زلزلے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد مابعد زلزلہ جھٹکوں(آفٹر شاکس)  میں ایک بار پھر ۷ء۵؍  کے جھٹکے نے ترکی اور شام میں تباہی مچادی ہے۔     خبر لکھے جانے تک۲۳؍ سو  ہلاکتوں  اور ہزاروں افراد کے   زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ قبرص، یونان، اردن، لبنان اور اسرائیل میں بھی  جھٹکے محسوس کئےگئےمگر  وہاں  کسی نقصان کی اطلاع  موصول نہیں ہوئی ہے۔ 
 صرف ترکی میں  اس خبر کے لکھے جانے تک ۱۴؍ سو ۹۸؍ اموات کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ شام میں۷۸۳؍ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دونوں  ملکوں  میں  مہلوکین کی مجموعی تعداد ۲۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔  زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات سوا۴؍بجے آیا، جب لوگ سوئے ہوئے تھے۔زلزلے کے باعث سیکڑوں  عمارتوں  کو شدید نقصان پہنچا،  جن میں سے متعدد تاش کے پتوں کی طرح  بکھرگئیں۔ پہلا جھٹکا   کم وبیش ایک منٹ تک محسوس کیا گیا۔ ا س سے پہلے کہ لوگ سنبھل پاتے محض ۱۱؍ منٹ بعد مابعد زلزلہ جھٹکوں  (آفٹر شاکس) کا سلسلہ شروع ہوگیا  جس میں  ایک جھٹکا پہلے جھٹکے  کےکم وبیش مساوی شدت کا تھا۔اس کی شدت ریختر پیمانے پر ۷ء۵ریکارڈ کی گئی  ہے۔ مرکز ترکی  کے جنوبی صوبے کی راجدھانی غازیانتپ کے شمال میں تھا۔  زلزلے کے بعد کم از کم ۷۸؍ آفٹر شاکس محسوس کئے گئے۔ 
 ترک صدر رجب  طیب اردگان نے  بتایا کہ پہلے جھٹکے میں ۲؍ ہزار ۸۱۸؍ رہائشی بلڈنگیں تباہ ہوگئیں۔   انہوں  نے  اس  زلزلہ کو  ۱۹۳۹ء کے بعد ترکی کیلئے سب سے بڑی آفت قراردیا جب اسی طرح کا زلزلہ  ارزنکان صوبے میں آیاتھا۔ اس  کے علاوہ ۱۹۹۹ء میں  استنبول کے قریب آنے والے ایک زلزلے میں  ۱۷؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مذکورہ زلزلے کی شدت بھی  موجودہ زلزلے کے مساوی بتائی گئی ہے۔ 

  ترک صدر نے  کہا کہ ’’زلزلے سے اموات کتنی بڑھیں گی، ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے، متاثرہ علاقوں  میں ملبہ ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے۔   ہماری کوشش ہے کہ اس تباہی میں جتنا ممکن ہوسکے جانی و مالی  نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔ ‘‘ انہوں نے حالات سے نمٹنے کیلئے ملک میں ایمرجنسی  نافذ  کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی کہا ہے کہ ’’ہر کوئی اپنی پوری کوشش کررہاہے، حالانکہ ایسی شدید سردی کے موسم میں رات کو آنے والے زلزلے پریشانیوں کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کم وبیش ۹؍ ہزار افراد کو فوری طور پر بچاؤ کام میں لگادیاگیاہے جبکہ ۴۵؍ ممالک نے بچاؤ کام میں مدد کی پیش کش کی ہے۔ بچاؤ کارکن بلڈنگوں   کے ملبے کو ہٹا کر ان میں پھنسے ہوئے شہریوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کڑاکے کی ٹھنڈ راحت رسانی کے کام میں مشکلیں پیدا کررہی ہے۔ اردگان نے بتایا کہ ۵؍ ہزار ۳۸۵؍ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ۲؍ ہز۴۷۰؍افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ یہ رجب طیب اردگان کی پریس کانفرنس تک کے اعدادوشمار ہیں۔ 
 اُدھر شام میں ۷۸۳؍ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔  یہاں باغیوں  کے کنٹرول والے علاقوں اور حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں تباہی کی نوعیت الگ الگ ہے۔ باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں اپنے ہی ملک میں  بے گھر ہوچکے ۴؍ ملین افراد پہلے سے  بوسیدہ اور حملوں میں تباہ ہوچکی عمارتوں میں مقیم ہیں۔ شام میں بشار الاسد حکومت نے اپنے کنٹرول والے علاقے میں سیکڑوں ہلاکتوں اورایک ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں  سرگرم عالمی رفاہی اداروں  نے  ۲۰۰؍ سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ 

turkey Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK