Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: سفارتی سرگرمیاں تیز، روس، پاکستان، ترکی اور سوئزرلینڈ متحرک

Updated: March 12, 2026, 10:07 PM IST | tehran

ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے دوران عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے روس اور پاکستان کی قیادت سے رابطہ کر کے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے عالمی طاقتوں کو فوری کردار ادا کرنا چاہئے۔

Iran`s President Masoud Al-Mezishkian. Photo: INN
ایرانی صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر: آئی این این

(۱) پیزشکیان نے روس اور پاکستان سے بات کی، جنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات پیش
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے روس اور پاکستان کی قیادت سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق ان گفتگوؤں میں جنگ بندی، علاقائی استحکام اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا۔ پیزشکیان نے کہا کہ موجودہ صورتحال پورے خطے کے امن کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کئے گئے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
روسی قیادت کے ساتھ گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ دوسری جانب پاکستان کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اس وقت فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی سرگرم ہے تاکہ عالمی دباؤ کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: تہران بینک حملے کے بعد ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو سخت کارروائی کی دھمکی

(۲) ترکی جنگ بندی کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہے: صدر رجب طیب اردگان
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کیلئے فعال سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔ اردگان نے کہا کہ ’’ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ خطہ مزید تباہی سے بچ سکے اور فریقین فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ترکی کئی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مذاکرات کیلئے میزبان کا کردار ادا کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے اور ایک بڑی جنگ پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی خود کو اس بحران میں ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی انقرہ نے مختلف علاقائی تنازعات میں سفارتی کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کا اسرائیل پرغیر قانونی یہودی آبادکاروں کے ناقابل قبول تشدد روکنے پر زور

(۳) سوئزرلینڈ نے سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر ایران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا
بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باعث سوئزرلینڈ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام سفارتی عملے کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ خطے میں جاری جنگ اور سیکوریٹی خدشات کے باعث سفارت خانے کے عملے کو عارضی طور پر واپس بلایا جا رہا ہے جبکہ سفارتی خدمات کی فراہمی کیلئے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ سوئزرلینڈ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے کیونکہ تہران میں امریکی مفادات کی نمائندگی اکثر سوئس سفارت خانہ ہی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس فیصلے کو سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگی صورتحال مزید خراب ہوئی تو دیگر ممالک بھی اپنے سفارتی مشنز کو محدود کرنے یا عارضی طور پر بند کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK