Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر عالمی سفارتی ردعمل: یورپ، ترکی اور ایشیا میں تشویش

Updated: March 07, 2026, 10:16 PM IST | Madrid

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر سفارتی ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کو منتخب انداز میں استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عالمی برادری سے اس کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی اس بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع عالمی استحکام، توانائی کی منڈیوں اور ہجرت کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

(۱) ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر ’’بین الاقوامی قانون کو چن کر استعمال کرنے‘‘ کا الزام
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد امریکہ اور اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کو منتخب انداز میں استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی قانونی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں جاری بحث کے دوران ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ مغربی طاقتیں انہی اصولوں کو نظرانداز کر رہی ہیں جن کے دفاع کا وہ دعویٰ کرتی ہیں۔
ایروانی نے کہا کہ تہران ’’بین الاقوامی قانون کو کھلے عام چن کر استعمال کرنے کے اس طرز عمل کو مسترد کرتا ہے‘‘، اور ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے اس کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ رہائشی علاقوں کے قریب موجود بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی نمائندے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ’’ایک خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرے اور خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ ایرانی سفارت کاروں نے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے فوری بین الاقوامی مذاکرات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

(۲) ہسپانوی وزیر اعظم کا انتباہ: ایران جنگ عالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے خبردار کیا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع عالمی استحکام کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل اور سفارتی مکالمے کی اپیل کی تاکہ ایک وسیع جنگ کو روکا جا سکے۔ بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے درمیان سانچیز نے اس بحران کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کیلئے بھی ممکنہ خطرہ قرار دیا۔
سانچیز نے کہا، ’’جو کشیدگی ہم دیکھ رہے ہیں اس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں‘‘، اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ اسپین نے بارہا اس تنازع کے سفارتی حل پر زور دیا ہے اور اس میں براہِ راست فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔
ہسپانوی حکام نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام توانائی کی عالمی منڈیوں، یورپ کی سلامتی اور ہجرت کے رجحانات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ حکومت نے یورپی شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
اسپین کا یہ انتباہ یورپی حکومتوں میں پائی جانے والی وسیع تشویش کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل محاذ آرائی ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ

(۳) جرمن چانسلر کا انتباہ: طویل ایران جنگ یورپ کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق طویل تنازع یورپ کیلئے دور رس نتائج کا سبب بن سکتا ہے، جن میں سلامتی، توانائی کی فراہمی اور ہجرت کے نظام پر اثرات شامل ہیں۔ تیزی سے بگڑتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مرز نے کہا کہ ’’لامتناہی جنگ ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘
جرمن لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں ریاستی اداروں کا انہدام ہو جائے یا اس کی سرزمین پر پراکسی تنازعات جنم لیں تو اس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایسی صورتحال کے یورپ پر سنگین اثرات ہوں گے‘‘، اور توانائی کی منڈیوں میں ممکنہ خلل اور ہجرت کے دباؤ میں اضافے کا ذکر کیا۔
مرز نے زور دیا کہ جرمنی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہا ہے جس کا مقصد جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق ’’بنیادی اصول ایک ایسا علاقائی امن نظام ہونا چاہئے جو اسرائیل اور خلیجی ممالک سمیت تمام ریاستوں کی سلامتی اور بقا کی ضمانت دے۔‘‘
جرمنی کے یہ بیانات اس بڑھتی ہوئی یورپی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تنازع اپنی موجودہ حدود سے باہر پھیل کر وسیع جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

(۴) میکرون کا مؤقف: فرانس مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل نہیں
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے واضح کیا ہے کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں شریک ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان میکرون نے کہا کہ پیرس فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
میکرون نے کہا، ’’فرانس جنگ نہیں کر رہا‘‘، اور زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنا ہے۔ فرانسیسی حکام نے تمام فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کیا ہے جو تنازع کو مزید پھیلا سکتے ہیں۔
پیرس نے بین الاقوامی سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ فرانس اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی اقدامات کو فروغ دے رہا ہے۔
میکرون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی یورپی حکومتیں ایک طرف علاقائی استحکام کی حمایت اور دوسری طرف بڑھتے ہوئے فوجی تنازع میں پھنسنے کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

(۵) اردگان کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا پیغام
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد فوری سفارتی کوششوں کی اپیل کی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں اردگان نے مکالمے اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
ترک حکام کے مطابق اردگان نے بڑھتے ہوئے تشدد پر افسوس کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اگر فوجی کشیدگی جاری رہی تو پورا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے علاقائی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی اقدامات کو ترجیح دیں۔
ترکی خود کو علاقائی بحرانوں میں مذاکرات کے حامی کے طور پر پیش کرتا رہا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ طویل فوجی محاذ آرائی کے بجائے سیاسی حل تلاش کئے جائیں۔ ترک قیادت نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وسیع جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔
ترکی کی یہ سفارتی اپیل اس وسیع تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع ایران اور اسرائیل سے آگے بڑھ کر مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں شدت: میزائل، ڈرون حملے اور اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات

(۶) ایران پر حملوں سے پہلے اطلاع نہ دینے پر خلیجی ممالک کی امریکہ سے ناراضی
اطلاعات کے مطابق کئی خلیجی ممالک نے ایران پر حملوں سے قبل امریکہ کی جانب سے پیشگی اطلاع نہ دینے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق اس عدم مشاورت نے واشنگٹن کے شراکت داروں میں سلامتی اور خطے کے استحکام کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
خلیجی ممالک کے حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران پر براہِ راست حملے پورے خطے میں جوابی کارروائیوں کو جنم دے سکتے ہیں، جن میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتیں خاص طور پر ایرانی ڈرون یا میزائل حملوں کے امکان سے پریشان تھیں۔
یہ صورتحال اس نازک توازن کو بھی ظاہر کرتی ہے جس کا سامنا خلیجی ممالک کو ہے، کیونکہ وہ ایک طرف امریکہ کے قریبی سلامتی شراکت دار ہیں اور دوسری طرف بڑھتے ہوئے تنازع میں براہِ راست ہدف بننے سے بچنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی عدم ہم آہنگی ایسے وقت میں علاقائی اتحادوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے جب بحران سے نمٹنے کیلئے تعاون انتہائی ضروری ہے۔

(۷) ایران حملے کے بعد انڈونیشیا کا ٹرمپ کے ’’امن بورڈ‘‘ سے دستبردار ہونے کا اعلان
انڈونیشیا نے ایران پر حملے کے بعد ایک بین الاقوامی امن بورڈ میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جکارتہ کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک کے کردار کا ازسرِ نو جائزہ لینے کیلئے کیا گیا ہے۔
انڈونیشیائی حکومت نے کہا کہ یہ اقدام عالمی امن اور استحکام کیلئے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اسے تنازع کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے وقت فراہم کرے گا۔ انڈونیشیا روایتی طور پر سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور عالمی تنازعات میں تحمل کی اپیل کرتا ہے۔
حکام نے یہ بھی دہرایا کہ ملک بین الاقوامی قانون اور پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے غیر جانبداری اور مکالمے پر زور دیتی رہی ہے، خصوصاً ان تنازعات میں جن میں بڑی عالمی طاقتیں شامل ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کا بحران صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

(۷) بڑھتی کشیدگی کے دوران واشنگٹن میں ایرانی قونصل خانے پر پرچم لہرایا گیا
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران واشنگٹن میں اپنے سفارتی احاطے پر قومی پرچم لہرایا، جسے بڑے پیمانے پر مزاحمت اور قومی عزم کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فوجی حملوں اور جوابی دھمکیوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس اقدام کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ ملک بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔ داخلی سطح پر اسے قومی بحران کے دوران اتحاد اور حوصلے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اس طرح کے علامتی اقدامات عموماً تصادم کے ادوار میں سیاسی پیغام کو مضبوط کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں، تاکہ قومی شناخت اور مزاحمت کو اجاگر کیا جا سکے۔
یہ اقدام ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں سفارتی روابط شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

(۸) ایران امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا: صدر پیزشکیان
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ سنیچر کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ پر آمادہ نہ ہو جائے۔
پیزشکیان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے دشمنوں کو ’’ایرانی عوام کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو اپنی قبروں تک لے جانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے خطے کے ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کسی پڑوسی ملک کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنائے گا جب تک اس پر ان ممالک کی سرزمین سے حملہ نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: تیسری عالمی جنگ یا جوہری جنگ کی صورت میں ٹرمپ محفوظ تنصیبات میں منتقل ہوسکتے ہیں

(۹) ایران نے پڑوسی ممالک پر حملوں پر معافی مانگ لی، مزید حملوں سے گریز کا اعلان
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے آٹھویں دن پڑوسی ممالک سے ان پر حملہ کرنے پر معافی مانگ لی۔ سنیچر کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔ پیزشکیان نے کہا، ’’میں اپنی طرف سے اور ایران کی جانب سے ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران نے حملہ کیا تھا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ تہران آئندہ کسی پڑوسی ملک کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنائے گا جب تک ایران پر ان ممالک کی سرزمین سے حملہ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس عبوری قیادت کونسل نے کیا ہے جو گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی قیادت کر رہی ہے۔ کونسل نے طے کیا ہے کہ ’’پڑوسی ممالک پر مزید میزائل حملے نہیں کئے جائیں گے۔‘‘
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عراق میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس صورتحال نے خطے کے ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK