Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ترکی کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ پر مغربی ممالک فکرمند

Updated: March 07, 2026, 6:09 PM IST | New York

دی وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہوئے ایک مضمون میں خاص طور پر ترک صدر اردگان کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی خارجہ پالیسی کے عزائم کو ترکی کو مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

Turkish President Erdoğan. Photo: X
ترک صدر اردگان۔ تصویر: ایکس

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، مغربی پالیسی ساز حلقوں میں علاقائی سفارت کاری اور سلامتی میں ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی روزنامہ ’دی وال اسٹریٹ جنرل‘ میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والا ایک مضمون، انقرہ کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور اسٹریٹجک پہنچ کے حوالے سے کچھ مغربی مبصرین کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

تبصرہ نگار بریڈلے مارٹن کے اس مضمون میں اس جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے مغربی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کریں کیونکہ خطے میں اس کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مارٹن کا کہنا ہے کہ انقرہ کی تیزی سے ابھرتی ہوئی آزاد خارجہ پالیسی اور وسیع ہوتی سفارتی رسائی، علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتی ہے۔ مضمون میں تجویز دی گئی ہے کہ مغربی ممالک کو ترکی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے اقدامات پر غور کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران تنازع کے بعد ٹرمپ نے کیوبا پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دیا

اردگان کی قیادت پر تنقید

اس مضمون میں خاص طور پر ترک صدر رجب طیب اردگان کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی خارجہ پالیسی کے عزائم کو ترکی کو مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ اردگان علاقائی معاملات کی تشکیل میں ایک نمایاں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، جس کیلئے وہ خاص طور پر خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی وابستگی کا سہارا لے رہے ہیں۔ 

اس تجزیے پر ناقدین کے تبصرے بھی سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجزیے، ترکی کی خارجہ پالیسی کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف، انقرہ اسے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور ہمسایہ خطوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ترک وزیر خارجہ فیدان کی ’جوہری ہتھیار‘ سوال پر پراسرار مسکراہٹ، خطے میں تشویش

علاقائی طاقت کے توازن پر خدشات کا اظہار

اس مضمون میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ممکنہ خلاء کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر جب جیو پولیٹیکل تبدیلیاں ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کردے۔ مضمون میں اس صورتحال کا ۲۰۰۳ء کی عراق جنگ کے بعد کی صورتحال سے موازنہ کیا گیا ہے، جب صدام حسین کے زوال کے بعد علاقائی حرکیات نمایاں طور پر بدل گئی تھیں۔ تجزیے کے مطابق، مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کا اثر و رسوخ کم ہوتا ہے تو ترکی، خطے میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتا ہے۔ مضمون نگار نے دلیل دی کہ ایسی تبدیلی پورے مشرقِ وسطیٰ میں اسٹریٹجک صف بندیوں کو بدل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: استنبول: اسرائیل سے منسلک برانڈز کے خلاف پہلا ’’فری غزہ مارکیٹ‘‘

ترکی کی نیٹو رکنیت پر بحث دوبارہ شروع

مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا ترکی کی پالیسیاں مکمل طور پر نیٹو (NATO) کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں۔ مضمون نگار نے تجویز دی کہ کئی بین الاقوامی مسائل پر انقرہ کے آزادانہ موقف کے پیشِ نظر اتحاد کو اس کے کردار کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے۔ تاہم، ترک حکام مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کا ملک ایک آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر قائم ہے۔ 

انقرہ نے حال ہی میں علاقائی لیڈران اور مغربی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط میں تیزی لائی ہے اور اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر مذاکرات اور تناؤ میں کمی کی اپیل کی ہے۔ یہ بحث خطے میں بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ پر موجودہ کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ متعدد طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور سفارت کاری کے مستقبل کے توازن کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK