سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو کھانا نہ فراہم کرنے کے خلاف طلبہ کا احتجاج ، سماجی کارکنان نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کی
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 9:56 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو کھانا نہ فراہم کرنے کے خلاف طلبہ کا احتجاج ، سماجی کارکنان نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کی
پردھان منتری پوشن آہار یوجنا کے تحت اسکولی طلبہ کو ملنے والے مڈڈے میل ، کیلئے اناج اور فنڈ کی فراہمی روک دی گئی ہے جس کی وجہ سے اس سال طلبہ کو کھانا نہیں مل پا رہا ہے۔ اسی کے خلاف تھانے اور پال گھر اضلاع میں طلبہ اور والدین نے پلیٹ مورچہ نکالا ۔طلبہ نے خالی پلیٹوں کو تھامے مارچ کیا اور ریاستی حکومت سے فوری طور پر مڈڈے میل کیلئے اشیائے ضروریہ کیلئے فنڈز جاری کرنے کامطالبہ کیا، تاکہ طلبہ بھوکے نہ رہیں ۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر کے سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں کو مذکورہ اسکیم کے تحت ملنے والااناج فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، اساتذہ اناج، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء کرانہ کی دکانوں سےاُدھار خریدنے پر مجبور ہیں ۔اطلاع کے مطابق مڈڈےمیل کا معاہدہ ختم ہونے کی وجہ سے گزشتہ ۳۔۴؍ مہینوں سے طلبہ کو کھانا نہیں مل رہا ہے ۔مراٹھی ابھیاس کیندر کے ترجمان سشیل سیجولے نے انقلاب کو بتایا کہ ’’جس معاہدہ کے ختم ہونے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے ،کیا حکام کو اس کاعلم نہیں تھا کہ مقررہ مدت پر یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا؟ دیہی علاقوں میں غریب بچوں کیلئے مڈڈے میل، ان کی بھوک مٹانے کا اہم ذریعہ ہے ۔ ان علاقوں میں بچے کھانا ملنے کی اُمید پر اسکول آتے ہیں تاکہ ان کاپیٹ بھر سکے۔ حکومت غریب بچوں کے بھوک سے کھلواڑ کر رہی ہے ۔ اگر حکومت اسی رویے پر کار بندہے کہ بچوں کو مڈڈے میل سے محروم رکھا جائے تو پھر ریاست کے وزیر تعلیم سے استعفیٰ کیوں نہ مانگا جائے ؟‘‘
پالگھر ضلع میں قبائلی حقوق کیلئے کام کرنے والی شرمجیوی تنظیم نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو اس تعلق سے خط لکھا ہے ، جس میں نئے تعلیمی سال سے طلبہ کو مڈڈےمیل نہ ملنے کی شکایت کی گئی ہے ۔ شاہ پور کے سماجی کارکن پرکاش کھوڈاکا کہنا ہے کہ ’’شاہ پور میں ۵۰۱؍اسکول ہیں ۔ جون میں صرف ۱۶۱؍ اسکولوں کو اناج ملا تھا۔ کچھ اسکولوں کو ان کا آخری ذخیرہ اپریل میں ملا تھا ۔اس کے بعد سے اناج نہ ملنے سے طلبہ مڈڈے میل سے محروم ہیں۔ ملک کی ترقی کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، لیکن طلبہ کو اپنے کھانے کے حقوق کیلئے سڑکوں پر اُترنا پڑ رہا ہے ۔‘‘
مذکورہ خط میں والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ اسکیم میں تاخیر کے ذمہ دار عہدیداروں، سپلائرز اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فی الحال حکومت عارضی انتظامات کرے تاکہ طلبہ کو کھانا ملتا رہے، جب تک کہ سپلائی دوبارہ شروع نہ ہو جائے ۔مظاہرین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کھانے کی باقاعدہ خدمات کو بحال کرنے کے بعد ایک رپورٹ جاری کرے اور اس طرح کی تاخیر کو دوبارہ ہونے سے روکنے کیلئے ضلعی سطح پر ایک مضبوط نگرانی کا نظام بنائے۔ مقامی تعلیمی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ریاستی حکومت کو اس کمی کے بارے میں مطلع کر دیا ہے ۔