سپریم کورٹ نے اسے ’’ڈکیتی‘‘ قرار دیا، نشاندہی کی کہ یہ کئی ریاستوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے، مرکز کو قابو پانے کیلئے ضابطہ عمل وضع کرنے کا حکم
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 8:00 AM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے اسے ’’ڈکیتی‘‘ قرار دیا، نشاندہی کی کہ یہ کئی ریاستوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے، مرکز کو قابو پانے کیلئے ضابطہ عمل وضع کرنے کا حکم
ملک میں اب تک ڈجیٹل فراڈ کے ذریعہ لوگوں کے ۵۴؍ ہزار کروڑ روپے لوٹ لئے جانے کو ’’ڈکیتی‘‘ قراردیتے ہوئے مرکزی حکومت کو ریزرو بینک، تمام بینکوں اور ٹیلی کمیونی کیشن محکمہ کے ساتھ مل کر اس سے نمٹنے کیلئے’’اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر‘‘ (معیاری ضابطہ عمل) تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالا باگچی اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے ڈجیٹل فراڈ کے ذریعے لوٹی گئی رقم پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ رقم کئی چھوتی ریاستوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایسے جرائم بینک اہلکاروں کی ملی بھگت یا غفلت کی بنا پر ہی ہو سکتے ہیں سپریم کورٹ نے آر بی آئی اور بینکوں کی جانب سے بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔عدالت نے وزارت داخلہ سے کہا ہےکہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا کےمعیاری ضابطہ عمل اور محکمہ ٹیلی کام کے اسی نوعیت کے ضابطہ عمل یا فیصلوں کا جائزہ لے اور ۴؍ہفتوں کے اندر ایک مسودہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کرے تاکہ ایسے جرائم سے مؤثر طور پرنمٹاجا سکے۔
بنچ نے یہ نشاندہی کی کہ آر بی آئی کے تیار کردہ ضابطہ عمل میں بینکوں کو سائبر فراڈ روکنے کیلئے ڈیبٹ کارڈس کو عارضی طور پر بند کرنے جیسے اقدامات پر غور کرنے کا مشورہ شامل ہے۔
عدالت نے سی بی آئی کو ڈجیٹل گرفتاری کے معاملات کی نشاندہی کرنے اور گجرات اور دہلی کی حکومتوں کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو جانچ کی منظوری دینے کا حکم دیا۔ کورٹ نے آر بی آئی،ٹیلی کمیونی کیشن محکمہ اور دیگر اداروں کو مل جل کر ڈجیٹل گرفتاری کے معاملات میں معاوضے کے طریقہ کار کا فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ متاثرین کو معاوضہ دینے کے معاملہ میں عملی اور نرم رویّہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے پر ۴؍ ہفتے بعد مزید سماعت کافیصلہ کیا۔