• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی

Updated: February 10, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi/Hyderabad

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اسی ویڈیو کے حوالے سے حیدرآباد پولیس میں شرما کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے شرما کے بیانات کو ”نسل کشی پر مبنی نفرت انگیز تقریر“ قرار دیا۔

CPI (M) Protest Against Sarma. Photo: X
سی پی آئی (ایم) کا شرما کے خلاف احتجاج۔ تصویر: ایکس

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور سی پی آئی کی سینیئر لیڈر اینی راجہ نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہ پٹیشنز شرما کی حالیہ تقاریر اور متنازع ویڈیو جن میں ریاست کی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں نے شرما پر نفرت انگیز تقریر، فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دینے اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے سامنے پیش ہوئے ایڈووکیٹ نظام پاشا نے اس معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی اور برسر اقتدار وزیراعلیٰ کی جانب سے دی جانے والی ”پریشان کن تقاریر“ کا حوالہ دیا، انہوں نے بی جے پی کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا جس میں شرما کو علامتی طور پر ایک خاص سماج کے ممبران پر گولیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ متعدد شکایات کے باوجود اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے اس معاملے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی موسم میں اکثر سیاسی تنازعات سپریم کورٹ تک پہنچ جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بنچ معاملے کا جائزہ لے گی اور سماعت کی تاریخ کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: بینک عوام کے پیسے کے ٹرسٹی ہیں: سپریم کورٹ

کمیونسٹ پارٹیوں نے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن میں شرما کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج کرنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ریاست اور مرکز کی ایجنسیاں اس معاملے میں آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکیں گی۔

گزشتہ دنوں آسام بی جے پی کے آفیشل `ایکس` ہینڈل سے پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں شرما کو رائفلیں سنبھالتے ہوئے دکھایا گیا، اس ویڈیو میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مسلمانوں کی تصویروں کو ہدف کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ رہے تھے۔ ویڈیو کے ساتھ ”پوائنٹ بلینک شوٹ“ اور ”غیر ملکیوں سے پاک آسام“ جیسے کیپشنز درج تھے۔ بڑے پیمانے پر ردِعمل کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا دیا گیا تھا۔ شرما نے کہا کہ انہوں نے ویڈیو نہیں دیکھی ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ وہ ”بنگلہ دیشی دراندازوں“ کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

عرضیوں میں شرما کے ذریعے ڈگبوئی میں دیئے گئے حالیہ تبصروں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران ”میاں لوگوں کو تڑپائیں گے۔“ انہوں نے لوگوں سے بنگالی مسلمانوں کے لیے ”مشکلات پیدا کرنے“ کی ترغیب دی تھی۔ لفظ ”میاں“، جو آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے اکثر توہین آمیز طور پر استعمال ہوتا ہے، گہرا فرقہ وارانہ معنی رکھتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ملک میں ۵۴؍ ہزار کروڑ کاڈجیٹل فراڈ

اسد الدین اویسی نے شرما کے خلاف پولیس شکایت درج کرائی

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اسی ویڈیو کے حوالے سے حیدرآباد پولیس میں شرما کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے ویڈیو کو ”نسل کشی پر مبنی نفرت انگیز تقریر“ قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پر دانستہ طور پر برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگایا۔

 اویسی نے پیر کے روز اپنی شکایت میں سپریم کورٹ کے ایک حکم کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے حکام کا یہ آئینی فرض ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، آئینی اقدار کو برقرار رکھیں اور ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار، خاص طور پر قانون کی حکمرانی کی حفاظت کریں۔ حیدرآباد سے رکن پارلیمان نے کہا کہ عدالت نے مزید ہدایت دی تھی کہ پولیس کو باضابطہ شکایت کی عدم موجودگی میں بھی نفرت انگیز تقریر کے معاملات میں ازخود کارروائی کرنی چاہیے۔

انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے الگ سے دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے، جبکہ جمعیت علماء ہند نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے شرما کے بیانات کو کھلم کھلا فرقہ وارانہ اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK