Updated: February 07, 2026, 2:01 PM IST
| New Delhi
ایک تازہ مطالعے کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ دس برسوں کے دوران عدالتوں نے ۱۲۰۰؍ سے زیادہ افراد کو سزائے موت سنائی، تاہم ان میں سے بہت کم سزائیں اعلیٰ عدالتوں میں برقرار رہ سکیں۔ رپورٹ میں ٹرائل کورٹس کے فیصلوں اور ہائی کورٹس کی توثیق کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ۱۲۰۰؍ سے زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی، تاہم ان میں سے صرف انتہائی محدود تعداد میں فیصلوں کی ہی اعلیٰ عدالتوں نے توثیق کی۔ یہ رپورٹ ہندوستان میں سزائے موت کے عدالتی رجحان اور اس کے نفاذ پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ اسے تحقیقی ادارے دی اسکوائر سرکل کلینک کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جس میں ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ٹرائل کورٹس کے فیصلوں کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں سیشن عدالتوں نے مجموعی طور پر ۱۲۷۹؍ افراد کو سزائے موت سنائی جبکہ بعض مقدمات میں ایک ہی شخص کو ایک سے زائد بار موت کی سزا دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں دی جانے والی سزاؤں کے مقابلے میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے صرف ۷۰؍ معاملات میں سزائے موت کو برقرار رکھا۔ باقی بیشتر مقدمات میں یا تو سزائیں کم کر دی گئیں یا فیصلے مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیے گئے۔ رپورٹ میں اس فرق کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی۔ پونے ایکسپریس وے پرٹریفک جام میں سدھیر مہتا پھنسے، ایئر لفٹ کرایا گیا
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ۲۰۲۵ء کے اختتام تک ہندوستان میں کم از کم ۵۷۴؍ افراد سزائے موت پر موجود تھے، جو گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ اعلیٰ عدالتیں بڑی تعداد میں سزاؤں کو مسترد کر رہی ہیں، لیکن نچلی عدالتوں میں موت کی سزا سنانے کا رجحان بدستور برقرار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹس کی جانب سے سزائے موت کے فیصلوں میں قانونی معیار، شواہد کے جائزے اور سزا کے اصولوں پر یکسانیت نظر نہیں آتی۔ خاص طور پر ’’غیرمعمولی مقدمات‘‘ کے اصول کے اطلاق میں بھی نمایاں فرق سامنے آیا ہے، جو ہندوستانی عدالتی نظام میں سزائے موت کے استعمال کا بنیادی معیار مانا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق، اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے فیصلوں کی بڑی تعداد میں منسوخی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتدائی عدالتوں میں دیے گئے کئی فیصلے قانونی جانچ پر پورا نہیں اترتے۔ اس سے نہ صرف عدالتی عمل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ سزائے موت جیسے ناقابلِ واپسی فیصلوں میں غلطی کے امکانات بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کے میئراورڈپٹی میئرکے انتخاب میں بڑا الٹ پھیر ممکن
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں قانونی نمائندگی، شواہد کے معیار اور سماجی پس منظر جیسے عوامل کا فیصلہ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ محققین کے مطابق، ان عناصر میں عدم توازن انصاف کے اصولوں کے خلاف جا سکتا ہے۔ رپورٹ کسی مخصوص ریاست یا عدالت کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتی، تاہم یہ واضح کرتی ہے کہ ملک میں سزائے موت کے نفاذ میں ادارتی ہم آہنگی کی شدید کمی ہے۔ رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹس کے لیے واضح رہنما اصولوں اور سخت عدالتی جانچ کی ضرورت ہے، تاکہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلے زیادہ محتاط اور یکساں بنیادوں پر کیے جاسکیں۔