• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئینی عہدوں پر فائز افرادکی زہر افشانی کیخلاف پٹیشن

Updated: February 10, 2026, 7:58 AM IST | New Delhi

  ہیمنت بسوا شرما، پشکر سنگھ دھامی ،یوگی آدتیہ ناتھ اورکئی مرکزی و ریاستی وزراء کے آئین کے منافی بیانات سپریم کورٹ میں پیش کئے گئے، رہنما خطوط کا مطالبہ

Yogi Adityanath
یوگی آدتیہ ناتھ

ملک میں وزرائے اعلیٰ ، مرکزی و ریاستی وزراء  اوریہاں تک کہ قومی سلامتی کے مشیر جیسے اہم آئینی عہدے پر فائز افراد کی نفرت انگیزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ۱۲؍ افراد کے ایک گروپ نے آرٹیکل ۳۲؍ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ آسام کے وزیراعلیٰ  ہیمنت بسوا شرما، اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی  کے بیانات نیز اجیت ڈوبھال کی ایک حالیہ تقریر کا حوالہ  دیتے ہوئے پٹیشن میں  سپریم کورٹ  سے آئینی اخلاقیات کے تحفظ کیلئے رہنما خطوط جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ 
 پٹیشن فائل کرنےوالے افراد کون ہیں؟
  سپریم کورٹ میں یہ اہم پٹیشن لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائز چانسلر اور حقوق انسانی کی علمبردار ڈاکٹر روپ ریکھا ورما ، راجیہ سبھا کے سابق رکن  محمد ادیب ،سابق آئی اے ایس افسر اور سماجی کارکن  ہرش مندر، دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ،  آن انڈیا کرسچن کونسل کے سیکریٹری جنرل  ڈاکٹر جان دیال  ، سماجی کارکن دیا سنگھ، سابق آئی اے ایس افسر آدیتی  مہتا، سابق آئی ایف ایس افسران  سریش کے گوئل اور اشوک کمار شرما نیز انڈین پوسٹر سروس کے سابق افسر سبودھ لال نے داخل کی ہے۔ 
ہیمنت بسوا شرما کی تقاریر کا حوالہ
  عرضی گزاروں نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں   انہوں نے  ’’میاں مسلمان‘‘کو نشانہ بنایا ہے۔  عرضی میں نشاندہی کی گئی ہے کہ  اس  سے پہلے ایک خاص مذہب کے ماننے والے افراد کیلئے ’’لوجہاد‘‘ا ور ’’سیلاب جہاد‘‘جیسی اصطلاحیں  گھڑ چکے ہیں۔ کورٹ کو آگاہ کیاگیاہے کہ ہیمنت بسوا شرما  اس حدتک جاچکے ہیں کہ انہوں نے ایک مذہب سے تعلق رکھنےوالے ۴؍ سے ۵؍ لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی بات  علی الاعلان کہی ہے۔ 
یوگی، دھامی اور ڈوبھال کا بھی حوالہ
 اسی طرح پٹیشن میں دیگروزرائے  اعلیٰ  اور اعلیٰ  سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی غیر آئینی تقاریر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔نشاندہی کی گئی ہےکہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ(پشکر سنگھ دھامی) ’’لینڈ جہاد‘‘ اور’’لو جہاد‘‘ جیسی   اصطلاح کا استعمال مسلسل کرتے  رہتے ہیں۔ یوپی کے وزیراعلیٰ (یوگی  آدتیہ ناتھ ) اردو زبان کے حامیوں  کے بارے میں تحقیر آمیز جملے کہتے ہیں جبکہ مرکزی وزراء اور سینئر افسران اکثر مسلمانوں کو ’’درانداز‘‘ اور ’’غیر ملکیوں  کے ہمدرد‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ کورٹ کوآگاہ کیاگیا ہے کہ حد تو یہ ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر نے اپنے ایک تقریر میں ملک کے شہریوں کو ’’تاریخ کا بدلہ لینے‘‘ کی ترغیب دی ہے۔
ملک میں آئینی اخلاقیات کو خطرہ
 درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ایسی تقریریں  بھلے ہی ملکی قوانین کے ’’تحت نفرت انگیز تقریر‘‘ کی تعریف پر پوری نہ  اترتی ہوں مگر یہ مجموعی طور پر آئینی اخلاقیات کو نقصان پہنچاتی ہیں ،اس لئے انہیں بغیر روک ٹوک  کے جاری نہیں رہنے دیا جاسکتا۔  پٹیشن میں  سپریم کورٹ سے  اس سلسلے میں رہنمائی مانگی گئی ہے۔
 درخواست گزاروں نے  آئینی عہدوں  پر فائز افراد کی بیان بازیوں کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سرکاری عہدوں پر فائز افراد عام مقرر نہیں ہیں۔   ان کی زبان سے نکلنےوالے الفاظ  کو ایک طرح سےحکومت کے فرمان کا درجہ حاصل ہوتا ہے،  ان کے بیانات  انتظامیہ کے  رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں، عوامی رائے قائم کرتے ہیں اور براہِ راست اشتعال انگیزی یا نفرت انگیز تقریر کے بغیر بھی کمزور طبقات پر خوف، دباؤ یا الگ تھلگ  کئے جانے کا احساس  پیدا کرسکتے ہیں۔‘‘
عدالت کےسابقہ فیصلوں کا حوالہ 
 نوتیج سنگھ جوہر بنام حکومت ہند (۲۰۱۸)، جوزف شائن بنام حکومت ہند (۲۰۱۹) اور  دہلی(قومی راجدھانی) حکومت  بنام حکومت ہند   (۲۰۱۸ء) جیسے مقدمات میں سپریم کورٹ  کے ہی سنائے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیشن میں کہا گیا کہ آئینی اخلاقیات کو عوامی جذبات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے ذریعہ اس طرح  بیانات عام ہوتے جارہے ہیں جوآئینی اخلاقیات کے صریح  منافی ہوتی ہیں جو ان عہدوں کے شایان شان نہیں جن پر مذکورہ افراد فائز ہیں۔  
 اس بنیاد پر سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ، وزیر اور دیگر سرکاری عہدوں پر فائز افراد کیلئے عوامی سطح پر دیئے جانےوالے بیانات کے حوالے سے رہنما خطوط جاری کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں  کے اُن کے بیان دستور ہند میں آرٹیکل ۱۴؍  اور ۲۱؍  کے ذریعہ فراہم کئے گئے بنیادی حقوق  کے منافی نہ ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK