چین کے ذریعہ جاسوسی کا انکشاف، کانگریس کا مودی سرکار سے سوال

Updated: September 15, 2020, 8:06 AM IST | Agency | New Delhi

کانگریس نے صدر، وزیراعظم، کابینی وزیر، وزرائے اعلیٰ، کانگریس صدر ، چیف جسٹس اور فوجی سربراہ کی جاسوسی کی مذمت کی اور مرکز سے پوچھا کہ کیا چین نے اس کا استعمال حکومت کی پالیسیوں کو متاثر کرنے کیلئے کیا ہے؟کیا حکومت اس معاملے کی جانچ کرے گی اور اس معاملے میں ملک کو یقین دلانے کی کوشش کرے گی؟

Randeep SIngh Surjewala  - Pic : INN
کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے حکومت سے کئی چبھتے ہوئے سوالات کئے

 اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے چینی ویب سائٹ کے ذریعہ صدر جمہوریہ اور وزیراعظم سمیت ملک کے کئی سینئر لیڈروں ،ججوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی سے متعلق رپورٹوںکی مذمت کرتے ہوئے مودی حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔
 کانگریس کے میڈیا شعبے کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک اہم معاصر انگریزی  روزنامے میں شائع خبر کے حوالے سے مودی سرکار کو گھیرتے ہوئےٹویٹ کیا کہ’’چین کے ذریعہ ہندوستانی لیڈروں اور دیگر افراد کی ڈیجیٹل جاسوسی کی خبر تشویش ناک ہے۔ہم واضح طور پر اس کی مذمت کرتے ہیں۔ کیا چین نے دو سال قبل وجود میں آنے والی اس کمپنی کا استعمال حکومت کی پالیسیوں کو متاثر کرنے کیلئے بھی کیا ہے؟کیا حکومت اس معاملے کی جانچ کرے گی اور اس معاملے میں ملک کو یقین دلانے کی کوشش کرے گی؟‘‘
 واضح رہے کہ ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونےوالی ایک پورٹ کے مطابق چین کی حکومت اور چین کی کمیونسٹ پارٹی  سے متعلق ایک بڑی ڈیٹا کمپنی کم از کم۱۰؍ ہزار اہم ہندوستانی شخصیات کے رئیل ٹائم ڈیٹا کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزراء، ملک کی دوسری سب سے بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، مختلف ریاستوں کےوزرائے اعلیٰ اور فوجی سربراہ کے علاوہ ججوں اور معروف صنعتکاروں جیسی اہم شخصیات پر مشتمل تقریباً  ۱۰ ؍ہزار افراد کے نام شامل ہیں۔ صرف اتنا ہی اس فہرست میں ملک کے کئی مجرمین اور ملزمین کے نام بھی شامل ہیں۔  
 معروف انگریزی رونامہ ’انڈین ایکسپریس‘کی رپورٹ کے مطابق، یہ کمپنی ’ہائی برڈ وارفیئر‘ اور چینی ملک کی توسیع کیلئے بگ ڈیٹا کے استعمال میں خود کو سب سے بہتر بتاتی ہے۔ ’زنہوا ڈیٹا انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ‘ کی طرف سے ان لوگوں کی رئیل ٹائم نگرانی ہو رہی ہے۔ نگرانی میں ان تمام اہم شخصیات سے وابستہ ہر چھوٹی سے چھوٹی جانکاری کو شامل کیا جا رہا ہے۔ جن اہم شخصیات کی نگرانی کی جا رہی ہے، ان میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ادیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک  کے نام بھی شامل  ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نرملا سیتارمن، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ،  وزیر ٹیکسٹائل اسمرتی ایرانی، ریلوے وزیرپیوش گوئل اور وزیر قانون روی شنکر پرساد  جیسے اہم مرکزی وزیروں  کا رئیل ٹائم ڈیٹا بھی چین کی نظر میں ہے۔چین کے حوالے سے ہونے والی اس جاسوسی کی وجہ سے ملک کی سالمیت خطرے میں محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اس فہرست میں  چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سے لے کر تینوں افواج کے کم از کم۱۵؍ سابق سربراہوں کا نام بھی شامل ہیں۔
 رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کی نظریں ہندوستانی عدلیہ پربھی جمی تھیں۔ اس دوران  ہندوستان کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، ان کے ساتھی جج ایم ایم کھانولکر سے لے کر لوک پال جسٹس پی سی گھوش بھی اس کے ذریعہ کی جانے والے جاسوسی کی فہرست میں شامل   ہیں۔ اسی طرح چین نے کی نظریں کچھ معروف صنعت کاروں پر بھی ہیں جن میں اجے تریہن سے لے کر رتن ٹاٹا اور گوتم اڈانی جیسے صنعت کاروں  کے نام شامل ہیں۔ اس خبر کے انکشاف پر کانگریس نے سخت تنقید کی ہے اور مودی سرکار سے سوال کیا ہے۔

راہل گاندھی کی مودی پر تنقید

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق صدر راہل گاندھی نے کووڈ۱۹؍کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی پر براہ راست نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے غرور  کی وجہ سے یہ وبا ملک بھر میں پھیل گئی ہے۔راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کیا کہ’’کورونا انفیکشن کی تعداد اس ہفتے۵۰؍ لاکھ اور فعال معاملوں کی تعداد۱۰؍ لاکھ کو پار کر جائے گی۔ دراصل یہ غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن ایک شخص کے غرور کی  وجہ سے ہے جس کی وجہ سے کورونا ملک بھر میں پھیل گیا۔‘‘ انہوں نے وزیراعظم  پر کورونا کو سنجیدگی سے نہ لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ’’مودی حکومت نے کہا خود کفیل بنئے، یعنی اپنی جان خود ہی بچا لیجئے کیونکہ وزیراعظم مور کے ساتھ مصروف ہیں۔‘‘ان کا اشارہ راہل مودی کے ذریعہ پچھلے دنوں شیئر کئے گئے ان کے اس ویڈیو  کی طرف تھا جس میں وزیراعظم مور کو دانا کھلاتے نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے ایک نظم لکھ کر یہ ویڈیو شیئر کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK