Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین کی طنزیہ اے آئی ویڈیو، ڈونالڈ ٹرمپ کی سیکوریٹی سمٹ پر نشانہ

Updated: March 15, 2026, 12:03 PM IST | Beijing

امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت نمایاں ہوگئی جب چین کے سفارت خانے نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سیکوریٹی سمٹ پر طنزیہ اے آئی ویڈیو پوسٹ کی۔ یہ ویڈیو لاطینی امریکہ میں امریکی پالیسیوں اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دونوں طاقتوں کے درمیان جاری سیاسی تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

چین کے سفارت خانے نے واشنگٹن میں ایک مختصر عرصے کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والی سیکوریٹی سمٹ کا مذاق اڑایا گیا۔ یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے ’’دشمنانہ غیر ملکی اثر و رسوخ‘‘کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ یہ مختصر اینی میشن بدھ کو سفارت خانے کے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی، مگر جمعہ کی صبح اسے ہٹا دیا گیا۔ یہ ویڈیو سنہوا نیوز ایجنسی( Xinhua News Agency )نے تیار کی تھی اور اس کا عنوان تھا:’’امریکہ کا محافظ یا امریکہ کی زنجیریں ؟‘‘
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یہ تنازع ۲۸؍فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے پیشگی حملے کئے جنہیں آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) اور آپریشن لایِنز روئر (Operation Lion`s Roar) کا نام دیا گیا۔ 

اینی میٹڈ کلپ میں ٹرمپ کی سیکوریٹی تجویز پر تنقید
۱۸؍ سیکنڈ کی اس اینی میشن میں ایک گنجا عقاب (بالڈ ایگل) دکھایا گیا ہے جو سوٹ پہنے ہوئے ہے اور سفید کبوتروں کے ایک گروہ کی صدارت کر رہا ہے۔ یہ کبوتر لاطینی امریکی ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ویڈیو میں عقاب ایک سرخ بٹن دباتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے ایک ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے، اور پھر وہ سب کو محفوظ رکھنے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کے بعد سرخ، سفید اور نیلے رنگ کی ایک بڑی ڈھال دکھائی جاتی ہے جو تحفظ کی علامت ہوتی ہے۔ کچھ لمحوں بعد یہی ڈھال ایک پنجرے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو کبوتروں کو قید کر لیتی ہے۔ اسی دوران عقاب کہتا ہے:’’آرام سے رہو، کبھی کبھی سیکوریٹی کے ساتھ تھوڑا سا کنٹرول بھی آتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: انتہائی دائیں بازو کی امریکی کارکن لارا لومر نے دورۂ ہند سے قبل تمام ’اینٹی انڈیا‘ پوسٹس حذف کردیئے

چین نے یہ ویڈیو ابھی کیوں پوسٹ کی؟
یہ ویڈیو اس وقت پوسٹ کی گئی جب ۷؍ مارچ۲۰۲۶ء کو فلوریڈا میں ’شیلڈ آف دی امریکاز سمٹ‘ منعقد ہوئی تھی۔ اس اجلاس میں لاطینی امریکہ کے۱۲؍ ممالک کے دائیں بازو اور وسطی دائیں بازو کے لیڈروں نے شرکت کی، جن میں : ارجنٹائن، بولیویا،  چلی، کوسٹا ریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گیانا، ہونڈوراس، پناما، پیراگوئے، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پرسیکوریٹی خطرات کے خلاف ’سخت طاقت‘ (Hard Power) استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے لاطینی امریکی لیڈران سے کہا:’’ہم آپ کے ساتھ مل کر جو بھی ضروری ہوگا کریں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم میزائل استعمال کریں تو ہم کریں گے۔ وہ انتہائی درست ہوتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے میزائل کے اڑنے کی آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا:’’پیو، سیدھا کسی کارٹل کے رکن کے ڈرائنگ روم میں جا کر گرے گا، اور کہانی ختم۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف جنگ سے امریکی معیشت بھی متاثر

لاطینی امریکہ میں چین کے اثر و رسوخ پر کشیدگی
ٹرمپ کئی بار لاطینی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں۔ اپنی۲۰۲۵ء کی افتتاحی تقریر میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ چین پاناما کینال چلا رہا ہے، تاہم ماہرین نے اس دعوے کو متنازع قرار دیا۔ اس وقت ایک ہانگ کانگ میں قائم کمپنی نہر کے قریب اہم بندرگاہی ٹرمینلز کو کنٹرول کر رہی تھی۔ گزشتہ ماہ پاناما کی اعلیٰ عدالت نے اس انتظام کو غیر قانونی قرار دیا، جس پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔ چینی حکام نے اس فیصلے کو ’’شرمناک اور افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ نے اس معاملے میں سیاسی دباؤ ڈالا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK