• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین ایکشن کی حمایت،سیلی رونی کی کتابوں کی تقسیم بند، فروخت میں۲۹۱؍ فیصد اضافہ

Updated: October 30, 2026, 6:04 PM IST | London

فلسطین کی حمایت اور ’فلسطین ایکشن‘ سے وابستگی کے باعث آئرش مصنفہ سیلی رونی کی کتابوں کی تقسیم برطانیہ میں روک دی گئی، لیکن اس فیصلے کے بعد ان کی کتابوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پبلشر کے فیصلے اور تنظیم پر عائد پابندی نے برطانیہ میں آزادیٔ اظہار، ادبی خودمختاری اور فلسطین کی حمایت کے حق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Sally Rooney and her famous book `Normal People`. Photo: X
سیلی رونی اور ان کی مشہور کتاب’نارمل پیپل‘۔ تصویر: ایکس

فلسطین ایکشن کی حمایت کے باعث برطانوی پبلشر کی جانب سے کتابوں کی تقسیم روک دیئے جانے کے بعد آئرش مصنفہ سیلی رونی کی کتابوں کی فروخت میں برطانیہ میں ۲۹۱؍ فیصد اضافہ ہوگیا۔ ’نارمل پیپل‘ (Normal People) جیسی مشہور کتاب کی مصنفہ سیلی رونی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ اس گروپ کو عطیہ کریں گی۔ فلسطین کے حامی اس گروپ ’فلسطین ایکشن‘ پر برطانیہ میں پابندی عائد ہے۔ سیلی رونی کے برطانوی پبلشر فیبر (Faber) کا کہنا ہے کہ قانونی پابندیوں کے باعث اب وہ مصنفہ کو رائلٹی ادا نہیں کرسکتا، اس لئے سیلی رونی کی رضامندی سے ان کی کتابوں کی تقسیم روک دی گئی ہے۔ 
فروخت کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف ایک ہفتے میں ان کی۴؍ ہزار ۵۳۱؍ کتابیں فروخت ہوئیں۔ دکانوں میں کتابوں کا اسٹاک ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے قارئین اب آئرلینڈ کی کتابوں کی دکانوں سے ان کی کتابیں منگوا رہے ہیں۔ اس دوران کئی سو مصنفین نے بھی سیلی رونی کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سائنسدانوں نے پہلی بار اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانی جسم میں انجیکٹ کیا

’فلسطین ایکشن‘ نے جون۲۰۲۵ء میں اس وقت عالمی توجہ حاصل کی جب اس کے کارکنوں نے برطانوی فضائیہ کے ایک اڈے میں داخل ہوکر طیاروں کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے کے بعد برطانوی حکومت نے۵؍ جولائی۲۰۲۵ء سے اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا۔ اس فیصلے کے بعد تنظیم کی رکنیت اختیار کرنا یا اس کی حمایت کرنا قابلِ سزا جرم قرار پایا، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا۱۴؍ سال قید ہے۔ تاہم، اس پابندی کو شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ فروری۲۰۲۶ءء میں ہائی کورٹ نے پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھالیکن جون میں اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے پابندی برقرار رکھی۔ اب اس معاملے پر برطانوی سپریم کورٹ میں ۴؍ اور ۵؍نومبر کو سماعت متوقع ہے۔ اس قانونی تنازع کے درمیان سیلی رونی کا معاملہ ادبی دنیا میں آزادیٔ اظہار اور سیاسی مؤقف کے اظہار کے حق پر نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK