اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم دنیا بھر میں علاج کے نئے طریقوں کی تلاش کو ضروری بنا رہے ہیں، اور اب مصنوعی ذہانت بھی اس کوشش میں ایک نیا کردار ادا کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 5:05 PM IST | California
اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم دنیا بھر میں علاج کے نئے طریقوں کی تلاش کو ضروری بنا رہے ہیں، اور اب مصنوعی ذہانت بھی اس کوشش میں ایک نیا کردار ادا کر رہی ہے۔
سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ ایک انسانی مریض کو ایسا وائرس دیا ہے جسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ اس تجرباتی علاج کا مقصد ایسے انفیکشن سے لڑنا ہے جو اب اینٹی بایوٹکس (جراثیم کش ادویات) کے اثر کو قبول نہیں کرتے۔ کیلیفورنیا میں قائم اے آئی اسٹارٹ اَپ ’ریڈیکل نیومیرکس‘ (Radical Numerics) نے بتایا کہ ایک سنگین بیکٹیریائی انفیکشن میں مبتلا مریض کو تجرباتی علاج دیا گیا، جس میں اس کے اے آئی ماڈل ’اومنی-۱‘ (Omnii-1) کے تیار کردہ وائرس شامل تھے۔ یہ ماڈل بیکٹیریوفیجز یا ’فَیجز‘ (Phages) تیار کرتا ہے۔ یہ ایسے وائرس ہوتے ہیں جو انسانی خلیوں کو نشانہ بنائے بغیر بیکٹیریا کو متاثر کرکے انہیں ختم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر پہلے ہی سنگین بیکٹیریائی انفیکشن کے علاج کیلئے فَیج تھیراپی کو تجرباتی طور پر استعمال کرتے ہیں، خصوصاً ایسے مریضوں میں جن کے پاس علاج کے دیگر متبادل محدود ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں: نیتن یاہو کا الزام
عام طور پر ڈاکٹر ایسے قدرتی وائرس کی تلاش کرتے ہیں جو مریض کے جسم میں انفیکشن پیدا کرنے والے مخصوص بیکٹیریا کو ختم کرسکے۔ تاہم ’اومنی-۱‘ نے کسی موزوں وائرس کی تلاش کرنے کے بجائے ایک وائرس کے حصے کو ازسرنو ڈیزائن کیا، تاکہ وہ انفیکشن کا سبب بننے والے مخصوص بیکٹیریا کی قسم کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان کر اس پر حملہ کرسکے۔ کمپنی کے مطابق اے آئی کی مدد سے انجام پانے والا یہ عمل مستقبل میں چند دنوں میں مکمل کیا جاسکے گا۔ مریض کو یہ علاج ایک خصوصی پروگرام کے تحت دیا گیا، جس کے ذریعے ڈاکٹر اس وقت تجرباتی طریقۂ علاج اختیار کرسکتے ہیں جب روایتی علاج کے امکانات محدود ہوجائیں۔
ریڈیکل نیومیرکس نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلا موقع ہے جب اے آئی کے تیار کردہ فَیجز کسی انسانی مریض کے علاج کیلئے استعمال کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے اس پیش رفت کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر کیا، تاہم اب تک کسی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے سائنسی مقالے کے ذریعے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ کمپنی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ علاج سے مریض کو فائدہ پہنچا یا نہیں۔ یہ طریقہ مشکل سے علاج ہونے والے انفیکشنز سے نمٹنے کیلئے ایک نیا متبادل فراہم کرسکتا ہے۔ فی الحال ڈاکٹر عموماً ایسے قدرتی وائرس تلاش کرتے ہیں جو مریض کو متاثر کرنے والے مخصوص بیکٹیریا کو نشانہ بناسکیں۔ ریڈیکل نیومیرکس کو امید ہے کہ اس کا اے آئی ماڈل مریض کے انفیکشن کے مطابق وائرس تیار کرکے اس عمل کو تیز کرسکتا ہے، جس سے ڈاکٹر کم وقت میں ممکنہ علاج تلاش کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: احتجاج سے قبل طلبہ نے چانسلر فریڈرک مرز کو کھلے خط میں مطالبات پیش کر دیے
کمپنی کے مطابق علاج دینے سے پہلے مریض سے حاصل کیے گئے بیکٹیریا کے نمونوں پر اے آئی کے تیار کردہ وائرس آزمائے گئے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تجربہ گاہ میں وائرس کے اس مرکب نے مریض کے نمونے میں موجود اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کو ختم کردیا تھا۔ تاہم کمپنی نے مریض کی بیماری کی تشخیص، علاج کے نتائج یا اس بات کی تفصیلات جاری نہیں کیں کہ آیا انفیکشن مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے یا نہیں۔
یہ پیش رفت طبی تحقیق کو تیز کرنے کیلئے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگست میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور آرک انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اے آئی کی مدد سے ایسے نئے وائرس تیار کیے ہیں جو تجربہ گاہ میں ای کولی (E. coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تقریباً ۳۰۰؍ اے آئی کے تیار کردہ وائرل جینومز کو مصنوعی طور پر تیار کرکے آزمایا گیا، جن میں سے ۱۶؍ نے فعال وائرس کی شکل اختیار کی۔ تاہم یہ تجربات انسانی جسم میں نہیں بلکہ بیکٹیریا پر کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اوباما نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو امریکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا
محققین نے خبردار کیا ہے کہ نئے وائرس تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اے آئی نظام حیاتیاتی تحفظ (Biosafety) کے حوالے سے خدشات پیدا کرتے ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب ایسے طریقوں کو انسانوں کو متاثر کرنے والے وائرس بنانے کیلئے استعمال کیا جائے۔ اسٹینفورڈ کی ٹیم نے جان بوجھ کر اپنی تحقیق کو ایسے وائرس تک محدود رکھا تھا جو بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں، نہ کہ انسانوں یا جانوروں کو۔ تاہم سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ہونے والی حیاتیاتی تحقیق میں تیزی کے پیش نظر مزید سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔