Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈی کے شیو کمار کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب،حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا

Updated: May 30, 2026, 11:27 PM IST | Bangalore

کرناٹک میں اقتدار کی منتقلی ،قانون سازپارٹی کی میٹنگ میں ڈی کے شیو کمار کے نام کی تجویز خود رخصت پزیر وزیر اعلیٰ سدارمیا نے پیش کی ، پارٹی لیڈروں نے سدارمیا کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے قرار داد منظور کی

DK Shivakumar stakes claim to form government to Governor Thawar Chand Gehlot. (Photo: PTI)
ڈی کے شیو کمار گورنر تھاور چندگہلوت کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی)

سنیچر کو  ودھان سودھا میں منعقدہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں توقع کے عین مطابق ڈی کے شیو کمار کو  متفقہ طور پر نیا لیڈر منتخب کر لیا گیا، جس کے بعد ان کے کرناٹک کے اگلے وزیراعلیٰ بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔اس میٹنگ میں ان کے نام کی تجویز رخصت پزیر  وزیراعلیٰ سدا رمیا نے خود پیش کی   جبکہ نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور نے اس کی تائید کی جسے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔میٹنگ کی نگرانی آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹریزکےسی وینو گوپال اور پارٹی کے کرناٹک امور کے انچارج رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کی ۔  
  تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کچھ وقت کے  لئے وقفہ لیا گیا جس کے بعد اعلیٰ قیادت ایک الگ کمرے میں مشاورت کرتی رہی۔اس دوران قانون ساز پارٹی کے اراکین نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں سدارمیا کی قیادت اور کانگریس پارٹی اور ریاست کرناٹک کے لئے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اجلاس سے باہر آنے کے بعد سدارمیا نے کہاکہ میں نے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے نئے لیڈر کے طور پر ڈی کے شیو کمار کا نام تجویز کیا جسے فوراً قبول کرلیا گیا۔  میں ان کے ساتھ پارٹی کو مضبوط بنانے اور حکومت کے تمام بہترین کاموں کو پورا کرنے کیلئے پوری جانفشانی سے تعاون کروں گا۔قبل ازیں ڈی کے شیوکمار نے اجلاس سے پہلے کے سی  وینوگوپال اور سرجیوالا سے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ بعد میں انہوں نے گورنرتھاور چند گہلوت سے بھی ملاقات کی جہاں نئی حکومت کی حلف برداری اور کابینہ کی تشکیل سے متعلق غیر رسمی گفتگو کی گئی۔اسی دوران انہوں نے حکومت سازی کا دعویٰ بھی پیش کردیا جس پر گورنرنے انہیں نئی حکومت بنانے کی باقاعدہ رسمی دعوت دے دی ہے۔ 
 کانگریس کے ریاستی ورکنگ صدر اور راجیہ سبھا رکن جی سی چندرشیکھر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈی کے شیوکمار کی بطور نئے وزیراعلیٰ حلف برداری کی تقریب  ۳؍جون کو بنگلور میں منعقد ہوگی۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تقریب سادگی کے ساتھ منعقد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ریاست بھر سے ۱۰؍ سے ۱۵؍ ہزار بسیں لا کر ایک بڑے عوامی اجتماع کا منصوبہ بنایا گیا تھا مگر ایندھن کے بحران اور ٹریفک کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ منسوخ کر دیا گیا۔ پارٹی نے واضح ہدایت دی ہے کہ تقریب کو غیر ضروری شان و شوکت سے پاک رکھا جائے۔چند رشیکھر نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں مقامِ تقریب پر پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔ادھر گورنر تھاورچند گہلوت نے سدارامیا کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے وزراء کونسل کو تحلیل کر دیا  ہے۔ امکان ہے کہ ڈی کے شیو کمار کے ساتھ ۲؍ نائب وزرائے اعلیٰ بھی حلف لیں گے اور ان کی کابینہ کے ۹؍ اراکین کو بھی حلف دلایا جاسکتا ہے۔

karnataka Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK