فرضی ڈاکٹروں کیخلاف ریاستی حکومت کے ’اپنے ڈاکٹرکوجانیں ‘مہم کے تحت مہاراشٹر میڈیکل کونسل کافیصلہ۔ مریض اپنے ڈاکٹر کے رجسٹریشن کی تصدیق کرسکیں گے۔
ریاست کے سبھی اضلاع میں ڈاکٹروں کو اب ۳۱؍ اکتوبر سے پہلے اپنے دواخانوں میں کیو آر کوڈ لگانا لازمی ہوگا تاکہ مریض ڈاکٹر کے رجسٹریشن کی تصدیق کرسکیں ۔اس کی پیروی نہ کرنے والے ڈاکٹروں پر ۱۵؍ ہزار روپے تک کا جرمانہ اور پولیس کارروائی بھی ہو سکتی ہے ۔مہاراشٹر میڈیکل کونسل ( ایم ایم سی ) نے جعلی یا نااہل ڈاکٹروںکے خلاف ریاستی حکومت کے ’اپنے ڈاکٹر کو جانیں ‘مہم کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ دواخانوں پر ایکریلک پلیٹوں پر اُبھرے ہوئے کیوآر کوڈ کو اسکین کرنے سے میڈیکل پریکٹیشنرس کی تفصیلات ظاہر ہوں گی جن میں ڈاکٹر کا نام، اہلیت، رجسٹریشن یہاں تک کہ ان کے لائسنس کی مدت بھی درج ہوگی۔ اس طرح کے کیوآرکوڈ والے بورڈ ہر کلینک پر لگائے جائیں گے ۔ اسپتالوں کو بھی اپنے احاطے میں ہر رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کی تفصیلات درج کرنے کو یقینی بنانا ہوگا ۔
کیوآر کوڈز ڈاکٹروں کے رجسٹریشن بورڈز سے منسلک ہوں گے اور ہر ۵؍ سال بعد ان کے لائسنس کی تجدید ہونے پر خود بخود تبدیلیوں کی عکاسی کریں گے۔
جنوبی ممبئی کی ایم ایم سی رجسٹرڈ ایک سینئر ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ میں نے ۲؍دن پہلے ہی اس تعلق سے ایم ایم سی کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں فرضی اور نااہل ڈاکٹروں کیلئے اُٹھائے گئے اس اقدام کی ستائش کی ہے لیکن اس کیلئے رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی طبی ضروری معلومات کے علاوہ ان کی ذاتی تفصیلات کو کیو آر کوڈ میں درج کرنے کی تجویز پر غورکرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے رجسٹرڈ ڈاکٹروں میں تشویش پائی جا رہی ہے لہٰذا ایم ایم سی سے درخواست ہےکہ وہ اس پروجیکٹ پر عمل کرنے سے قبل نظرثانی کرے اور ڈاکٹروں کی ذاتی معلومات کو شیئر نہ کیا جائے۔‘‘
بمشکل ۲۰؍ ہزار ڈاکٹروں نے درخواست دی ہے
ایم ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر ونکی روگھوانی کے مطابق ’’ایم ایم سی کو پچھلے سال جاری کردہ اپنی ایڈوائزری پر ملنے والے ردعمل کی وجہ سے اس کیو آر کوڈ کو لازمی کرنا پڑا ہے ۔ ایم ایم سی میں رجسٹرڈ ایک لاکھ ۴۳؍ ہزار ڈاکٹروں میں سے بمشکل ۲۰؍ہزار نے اس کیلئے درخواست دی ہے ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’مہاراشٹر پہلی ریاست ہے جس نے اپنے ڈاکٹروں کیلئے کیو آرکوڈ کی توثیق کا نظام لازمی قرار دیا ہے۔ اس ماڈل پر نیشنل میڈیکل کونسل بھی غورکر سکتا ہے ۔کیوآر کوڈز، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ سے مختلف ہیں۔ ان میں ہیرا پھیری نہیں کی جا سکتی ہے ۔ آیورویدک اور ہومیوپیتھی ڈاکٹر گزشتہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے اس نظام کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘
ہرماہ اوسطاً ایک شکایت موصول ہوتی ہے
یہ اقدام گزشتہ ۲؍ اسمبلی اجلاس میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کے بعد کیا جا رہا ہے ۔ ایم ایم سی کو ریاست میں فرضی ڈاکٹروں کی ادویات کی مشق کرنے کے واقعات کے بارے میں ہر ماہ اوسطاً ایک شکایت موصول ہوتی ہے۔ یہ شکایات متعلقہ ضلعی کلکٹروں کے ساتھ پولیس کی زیر صدارت ضلعی اینٹی کوکری کمیٹیوں کو بھی بھیجی جاتی ہیں۔