• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نرملا سیتارمن نے آر بی آئی سے ڈجیٹل روپیہ پلیٹ فارم کی صلاحیت مزید بڑھانے کی اپیل کی

Updated: September 11, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) سے ملک کے ڈجیٹل روپیہ (Central Bank Digital Currency-CBDC) پلیٹ فارم کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی اپیل کی ہے۔ آر بی آئی کو ڈجیٹل روپیہ کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید تیز کرنا چاہیے ۔

Nirmala Sitharaman.Photo:PTI
نرملا سیتارمن۔ تصویر:پی ٹی آئی

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن  نے ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) سے ملک کے  ڈجیٹل روپیہ (Central Bank Digital Currency-CBDC)  پلیٹ فارم کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی کو ڈجیٹل روپیہ کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید تیز کرنا چاہیے اور تھوک (Wholesale) کے ساتھ ساتھ خردہ (Retail) ڈجیٹل کرنسی کے استعمال کو بھی فروغ دینا چاہیے۔
ممبئی میں منعقدہ  گلوبل فن ٹیک فیسٹ ۲۰۲۶ء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان ڈجیٹل مالیاتی اختراع کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسے وقت میں ڈجیٹل روپیہ کی افادیت اور رسائی کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آر بی آئی پر زور دیا کہ وہ ڈجیٹل روپیہ کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنا کر اس کی صلاحیتوں کو اگلی سطح تک لے جائے۔ فن ٹیک فیسٹ کے دوران نرملا سیتارمن نے  مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ’’دو دھاری تلوار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اے آئی مالی فراڈ کی نشاندہی اور روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، تو دوسری جانب فریب دہی کے لیے بھی اس کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ مضبوط سیکوریٹی اور نگرانی کا نظام بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، ریگولیٹرز اور صنعت کو مل کر ایسے حفاظتی نظام تیار کرنے ہوں گے جو ٹیکنالوجی کے تیز رفتار استعمال کے ساتھ عوام کا اعتماد بھی برقرار رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’مرزا پور: دی مووی‘‘ نے ۷؍ویں دن دنیا بھر میں ۲۰۰؍ کروڑ کا ہندسہ پار کر لیا

وزیر خزانہ نے ہندوستان کی ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر  کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے دنیا کے مضبوط ترین ڈجیٹل نظاموں میں سے ایک تیار کیا ہے، جہاں  یو پی آئی کے ذریعے اربوں لین دین  انجام دیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی بڑی نوجوان آبادی اور انسانی وسائل کی طاقت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور خلائی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں بھی نئی کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔ سیتارمن کے مطابق ڈجیٹل ٹیکنالوجی ہندوستان کے  ڈیموگرافک ڈویڈنڈ  کو حقیقی اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
وزیر خزانہ نے مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز، مسابقتی کمیشن، ڈیٹا پروٹیکشن اداروں اور سائبر سیکوریٹی ایجنسیوں کو بھی خبردار کیا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کو واضح طور پر سمجھتے ہوئے ایک بہتر کوآرڈینیشن میکانزم  تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی خدمات کے پھیلاؤ کے ساتھ مختلف ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:چنئی سپرکنگز کے اگلے کوچ کا فیصلہ ایم ایس دھونی کریں گے

سیتارمن نے واضح کیا کہ کوئی بھی مالیاتی سرگرمی صرف اس وجہ سے ریگولیٹری نگرانی سے باہر نہیں رہ سکتی کہ وہ دو مختلف شعبوں کی سرحد پر کام کررہی ہے یا روایتی مالیاتی ادارے کے بجائے کسی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے ذریعے خدمات فراہم کررہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی استحکام اور صارفین کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ سرگرمیوں پر مناسب نگرانی ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے ساتھ مضبوط  سیفٹی گارڈ ریلز  تیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری یہ ہے کہ ایسا حفاظتی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ اعتماد میں بھی اضافہ کرے۔ ان کے مطابق کارکردگی اور سکیورٹی کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ مضبوط ادارہ جاتی نظام دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بنا سکتا ہے۔
سیتارمن نے مزید کہا کہ اے آئی فیصلہ سازی میں مدد فراہم کرسکتی ہے، لیکن حتمی ذمہ داری انسانوں اور ادارہ جاتی نظام کی ہی ہونی چاہیے۔  حکومت، ریگولیٹرز اور صنعت کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی سے جدت اور کارکردگی میں اضافہ ہو، لیکن اس کے نتیجے میں مالیاتی نظام میں نئے خطرات یا کمزوریاں پیدا نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK