کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو ملک کو بتانا چاہئے: کانگریس

Updated: July 05, 2020, 8:14 AM IST | Agency | New Delhi

پارٹی ترجمان کپل سبل نے کئی چبھتے ہوئے سوال کئے ، حقیقت سامنے لانے کا مطالبہ

Kapil Sibal - PIC :  INN
کپل سبل ۔ تصویر : آئی این این

چین سے جاری سرحدی تنازع کے سلسلے میں حقیقت سامنے نہ لانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے مطالبہ کیا کہ حکومت  اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کو یہ صاف صاف بتانا چاہئے کہ چین نے ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں کیا ہے اور وادی گلوان پر پوری طرح سے ہندوستان ہی قابض ہے۔واضح رہے کہ آزاد ذرائع اور غیر سرکاری ادارے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے  ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے   متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں لیکن حکومت ہند اور وزیر اعظم اس سے صاف انکار کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے کانگریس کے ترجمان اور پارٹی کے سینئر لیڈر کپل سبل نے مطالبہ کیا کہ  وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہئے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں  ہے؟ انہوں نے  پریس کانفرنس میں کہا کہ لداخ خطے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ چینی فوج نے ہندوستانی سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے۔
 کپل سبل کے مطابق  خود بی جے پی کے کونسلروں  کا کہنا ہے کہ چین کے فوجی دستوں نے ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں اپنے فوجی سازو سامان تعینات کردیے ہیں اور اس کے فوجی پوری  تیاری کے ساتھ ہندوستانی سرزمین پر قابض ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے وادی گلوان میں ہماری۱۸؍ اسکوائرکلومیٹر اراضی پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہندوستانی چرواہوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ وہاں نہیں جا سکتے جہاں وہ اپنی مویشیوں کو ایک طویل عرصے سے چرا رہے تھے۔ کپل سبل نے سونم وانگ چنگ کا حوالہ بھی دیا جو لداخ کےانجینئر ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی چرواہوں کو وادی گلوان میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے چین نے ۱۹۵۹ء میں یہ تسلیم کیا  تھا کہ حقیقی کنٹرول لائن کے مطابق پوری  وادی گلوان ہندوستان کی ہے لیکن۱۶؍ جون ۲۰۲۰ءکے بعد وادی گلوان چینی قبضے میں آگئی ہےجبکہ وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ چین ہندوستان میں داخل نہیں ہوا ہے اور نہ  ہماری کسی چوکی پر  اس کا  قبضہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK