Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: تارکین وطن کیلئے خود جلاوطنی کی اسکیم کی تشہیر کیلئے تاج محل کی تصویر استعمال کرنے پر تنازع

Updated: March 18, 2026, 10:14 PM IST | Washington

ہندوستانی صارفین نے الزام لگایا کہ یہ پوسٹ بظاہر ہندوستانی تارکینِ وطن کو خاص طور پر نشانہ بناتی ہے کیونکہ اس میں تاج محل کو بطور علامت استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں چین اور کولمبیا جیسے ممالک کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

Controversial Poster and Trump. Photo: X
ٹرمپ اور متنازع پوسٹر۔ تصویر: ایکس

امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے ”سیلف ڈی پورٹیشن“ (خود جلاوطنی) مہم کے تحت تارکین وطن کیلئے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں تاج محل کی تصویر استعمال کی گئی ہے۔ اس آفر کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کے عوض مفت پرواز اور نقدی مراعات کی پیشکش کی گئی ہے۔ ہندوستانی تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والے اس پوسٹر کے سامنے آنے کے بعد امریکی محکمہ پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

خود جلاوطنی پر مفت سفر اور نقدی مراعات کی پیشکش

بدھ کے دن سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ایک پوسٹ میں ڈی ایچ ایس نے تارکینِ وطن کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ”مفت میں اپنے گھر کی پرواز“ لیں اور خود سے جانے کا فیصلہ کرنے پر ۲۶۰۰ ڈالر تک کی رقم بھی وصول کریں۔ اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند غیر قانونی تارکینِ وطن ’سی بی پی ون‘ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کرسکتے ہیں، امریکی حکام کو اپنے جانے کے ارادے سے آگاہ کر سکتے ہیں اور مالی مراعات کے ساتھ سفری بکنگ میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نفاذِ قانون کے اخراجات میں کمی اور حراستی مراکز پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ توقع ہے کہ اس میں حصہ لینے والے تارکینِ وطن زبردستی ملک بدری سے جڑے قانونی نتائج سے بچ سکیں گے، جس کیلئے انہیں روانگی کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر کا ایران جنگ کے خلاف استعفیٰ

ڈی ایچ ایس پر تنقید

مہم میں تاج محل کی تصویر کے استعمال پر ہندوستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے اس قسم کی پیغام رسانی کو غیر حساس قرار دیا۔ صارفین نے الزام لگایا کہ یہ پوسٹ بظاہر ہندوستانی تارکینِ وطن کو خاص طور پر نشانہ بناتی ہے کیونکہ اس میں تاج محل کو بطورِ علامت استعمال کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ اس میں چین اور کولمبیا جیسے ممالک کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ 

کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ملک بدری سے متعلق اسکیم کی تشہیر کے لئے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ثقافتی علامت تاج محل کو کیوں استعمال کیا گیا۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار مخصوص برادریوں، خاص طور پر ہندوستانی تارکینِ وطن کو نشانہ بناتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین نے تشویش ظاہر کی کہ یہ مہم ایک پیچیدہ مسئلے کو محض مالی لین دین کی پیشکش تک محدود کر دیتی ہے اور قانونی، مالی و جذباتی نتائج کے باوجود ملک چھوڑنے کو ایک آسان انتخاب کے طور پر پیش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے مشیروں کو ایران جنگ شروع کرنے پر پچھتاوا: رپورٹ

واضح رہے کہ یہ اسکیم امیگریشن مہم ”اسٹے آؤٹ اینڈ لیو ناؤ“ (Stay Out and Leave Now) کا حصہ ہے جس کیلئے ۲۰۰ ملین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ اس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی اور رضاکارانہ خروج کی ترغیب دینا ہے۔ ڈی ایچ ایس کی سابق سیکریٹری کرسٹی نوئم نے بتایا کہ انتظامیہ کے مطابق ان پالیسیوں کے ابتدائی مرحلے کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد میں تقریباً ۱۶ لاکھ کی کمی آئی ہے۔ تاہم، حقوقِ انسانی کے گروپس اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے کمزور طبقے کے نشانہ بننے کا خطرہ ہے اور یہ طویل مدتی امیگریشن اصلاحات کے بجائے صرف نفاذِ قانون کی ظاہری نمائش کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK