ڈومبیولی : کورونا گائیڈ لائنز کو پامال کرتے ہوئے جین برادری کی یاترا نکلی

Updated: July 19, 2021, 12:17 PM IST | Ajayz Abdul Ghani | Dombivli

مہاراشٹر سر کار نے’ بریک دی چین‘ کا حوالہ دیتے ہوئےمسلمانوں کے اہم مذہبی تہوار عیدالاضحی پر کسی بھی طر ح کی کوئی رعایت نہیں دی ہے دوسری جانب کووڈ ۱۹؍ اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جین برداری نہ صرف مندروں میں بھیڑ بھاڑ کرر ہی ہےبلکہ بڑے تز ک و احتشام کے ساتھ یاترائیں بھی نکالی جارہی ہیں۔

Two views of the Jain community`s journey.Picture:INN
جین برادری کی یاترا کےدومناظر۔تصویر :آئی این این

مہاراشٹر سر کار نے’ بریک دی چین‘ کا حوالہ دیتے ہوئےمسلمانوں کے اہم مذہبی تہوار عیدالاضحی پر کسی بھی طر ح کی کوئی رعایت نہیں دی ہے دوسری جانب کووڈ ۱۹؍ اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جین برداری نہ صرف مندروں میں بھیڑ بھاڑ کرر ہی ہےبلکہ بڑے تز ک و احتشام کے ساتھ یاترائیںبھی نکالی جارہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پولیس جان بوجھ کر مذہبی یاتر ا نکالنے والوں کے خلاف کارروائی سے اپنا دامن بچا رہی ہے۔ کورونا کی ممکنہ تیسری لہرسے بچنے کیلئے تمام مذاہب کے تہواروں پر پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں۔سرکار نے احتجاجی مظاہروں، مذہبی جلوس اور مذہبی مقامات کو بند رکھنے کا حکم نافذکیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ڈومبیولی میں سبھی جین مندر کھلے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ۳؍ دن سے روزانہ جین مندروں سے ڈھول تاشے کے ساتھ یاترا نکالی جارہی ہے جس میں سیکڑوں افراد سماجی فاصلہ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شامل ہورہے ہیں۔یاترا میںہو نے والی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے شہری سوال پوچھ رہے ہیں’ کیا کورونا ختم ہو گیا ہے؟اور کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی تہوار منانے کی اجازت دی جائیگی؟‘ یہاں قابل افسوس بات یہ ہے کہ دن کے اجالے میں انتہائی دھوم دھام سے نکلنے والی یاترا کے خلاف میونسپل انتظامیہ اور محکمہ پولیس کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے۔ جلوس میں امڈی بھیڑ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کورونا نام کی کوئی وبائی بیماری موجود ہی نہیں ہے۔ نوجوان ، بچے، عورت ، مرد سبھی پورے جوش و خروش کے ساتھ یاترا میں شامل ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں جب پولیس سے استفسار کیا گیا تو جواب ملا کہ کسی بھی قسم کا جلوس اور یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اگر کہیں قانون کیخلاف ورزی ہوئی ہو گی تو کارروائی کی جائیگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK