Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: ڈھابوں میں گیس سلنڈر کی کمی، لکڑی اور کوئلے کے چولہوں کا سہارا

Updated: March 13, 2026, 10:59 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

کمرشیل ایل پی جی گیس کی قلت نے بھیونڈی کے مشہور ڈھابوں اور ہوٹلوں کے چولہوں کی آنچ مدھم کر دی ہے۔ گیس سلنڈروں کی غیر یقینی سپلائی کے باعث ڈھابہ مالکان کو مجبوراً روایتی چولہوں، لکڑی اور کوئلے کی سگڑیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

Bhiwandi dhaba owners are now using cigarettes to cook food
بھیونڈی کےڈھابے والے اب کھانا بنانے کیلئے سگڑی استعمال کر رہے ہیں

کمرشیل ایل پی جی گیس کی قلت نے بھیونڈی کے مشہور ڈھابوں اور ہوٹلوں کے چولہوں کی آنچ مدھم کر دی ہے۔ گیس سلنڈروں کی غیر یقینی سپلائی کے باعث ڈھابہ مالکان کو مجبوراً روایتی چولہوں، لکڑی اور کوئلے کی سگڑیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف کھانا تیار کرنے کے عمل کو سست کر دیا ہے بلکہ کئی مقبول پکوان بھی عارضی طور پر مینو سے غائب ہو گئے ہیں۔واضح ہوکہ بھیونڈی کے ڈھابوں کی شہرت اب صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہی۔ یہاں کے ڈھابوں کا ذائقہ ایسا ہے کہ ممبئی، تھانے، کلیان اور دیگر شہروں سے سیکڑوں لوگ یہاں کے دیسی ذائقوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں، مگر ان دنوں گیس کی قلت کے باعث ان ڈھابوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
 جئے ملہار ڈھابہ کے مالک مہیش رانے نے بتایا کہ گیس کی کمی نے ڈھابہ کاروبار کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے ان کے ڈھابے پر درجنوں اقسام کے پکوان تیار کئے جاتے تھے لیکن اب گیس کی قلت کے باعث صرف ۵؍سے ۱۰؍ اقسام کے کھانے ہی بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملازمین کا روزگار برقرار رکھنے اور گاہکوں سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے ہم لوگ کسی طرح لکڑی کے چولہوں پر کھانا تیار کر کے کاروبار جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ڈھابہ مالکان کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ بعض مقامات پر سلنڈروں کی مبینہ کالابازاری کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیںجس سے چھوٹے کاروباریوں پر معاشی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔  ساحل گروپ آف ہوٹل کے منیجرنے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے کمرشیل گیس کی سپلائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ابتدا میں ہم نے اسٹاک  میں موجود گیس سے کام چلایا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ کئی مقامات پر گیس مکمل ختم ہو چکی ہے اور ہمیں لکڑی کے چولہوں پر کھانا بنانا پڑ رہا ہے۔ اس طریقے سے کھانا بنانے میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور گاہکوں کی پسند کے کئی پکوان تیار کرنا ممکن نہیں ہو پاتا۔
 گیس کی قلت کے باعث شہر کے کئی بڑے اور چھوٹے ہوٹلوں اور ڈھابوں کے شٹر بند ہونے لگے ہیں۔ رات دیر تک آباد رہنے والے شہر کے میٹرو ہوٹل سمیت مضافاتی علاقوں کے متعدد ڈھابے ان دنوں بند پڑے ہیں۔ ڈھابہ مالکان کا کہنا ہے کہ کوئلے کے چولہوں پر مختلف اقسام کے پکوان تیار کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے اب گاہکوں کو صرف محدود کھانے ہی فراہم کئےجا رہے ہیں۔
 رضوان ہوٹل کے دانش شیخ نے بتایا کہ کمرشیل گیس سلنڈروں کی شدید قلت کے باعث ہوٹل کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں ہوٹل عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ کام نہ ہونے کی صورت میں وہ ہوٹل میں کام کرنے والے کاریگروں کو ان کے آبائی گاؤں بھیجنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سلنڈروں کی عدم دستیابی نے ہوٹل مالکان کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور اس کا براہِ راست اثر اس شعبے سے وابستہ کاریگروں اور مزدوروں کے روزگار پر پڑ رہا ہے۔ اسی طرح ابراہیم شورما کنگ کے مالک نوشاد شیخ نے بتایا کہ وہ گزشتہ ۱۷؍ سال سے زائد عرصے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں مگر کمرشیل گیس سلنڈروں کی ایسی شدید قلت اور پریشانی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کے مطابق اس وقت بازار میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت ۴۵۰۰؍ روپے تک پہنچ گئی ہے، اس کے باوجود سلنڈر بازار میں آسانی سے دستیاب نہیں ہو رہے ہیں۔نوشاد شیخ نے کہا کہ گیس کی قلت اور بڑھتی قیمتوں کے باعث ہوٹل اور فوڈ کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کاروبار بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK