Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تنگدستی میںپڑھائی کی مگر قرآن کی برکت نےعُسرکویُسرمیںتبدیل کردیا‘‘

Updated: March 13, 2026, 11:02 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حافظ سہیل اختر نعمانی ،جن کا تعلق مدھوبنی سے ہے ، ۲۲؍برس سے تراویح سنارہے ہیں ،وہ ۱۸؍برس قبل ممبئی آئے تھے اور اب بھی یہیں ہیں ،ان کی بات چیت سے اپنی خدمات کےتئیںاطمینا ن جھلکتا ہے

Qari Sohail Akhtar Nomani is busy reciting the Holy Quran.
قاری سہیل اختر نعمانی قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف ہیں

قاری سہیل اختر نعمانی۲۲؍برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں ۔ ۱۵؍سال کی عمر میں حفظ کرنے کے بعد پہلی تراویح انہوںنے اپنے آبائی وطن مریٹھ ضلع مدھوبنی میں سنائی تھی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میںحاصل کرنے کےبعد مدرسہ اتحاد المسلمین باکھا کسارمیں قاری محمد مختار نعمانی کے پاس حفظ شروع کیا ۔ اس کےبعد گاؤںکے کچھ طلبہ مدرسہ نور الاسلام ولیدپوراعظم گڑھ میں زیرتعلیم تھے، وہاں مجھے بھی داخلہ دلوایا گیا ۔ اسی مدرسے میں ڈیڑھ سال کے عرصہ میں قاری مشتاق صاحب کے پاس حفظ مکمل کیا۔ حافظ سہیل کے بڑے بھائی بھی حافظ قرآن ہیں۔
 حافظ سہیل ممبئی میںتراویح سنانے کیلئے ۱۸؍ سال قبل آئےتھے، انہیںجوگیشوری کی حبیبیہ مسجد کے خطیب و امام نے بلوایا تھا۔ ممبئی میںپہلی ۱۰؍روزہ تراویح بہرام باغ میںسنائی۔ اس کےبعد عرفہ ہوٹل اندھیری میں، اس کےبعد دیگر علاقوں میںتراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی اثناء میں مالونی کے مدرسہ ندائے اسلام میںشعبۂ حفظ میں استاد مقرر ہوئے، تدریسی خدمات کے دوران بھی تراویح پڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ ادھر دو تین برس سے وہ حفاظ کی سرپرستی اوران کی رہنمائی کررہے ہیں۔ خود صدائے اسلام کے نام سے ادارہ بھی چلاتے ہیں، ادارے میںبھی ۱۰؍ روزہ تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں مدرسے کے طلبہ سناتے ہیں اور وہ ان کی سماعت اور نگرانی کرتے ہیں۔ 
 اس نمائندے سے گفتگو کے دوران حافظ سہیل اختر اپنے دورِ طالب علمی کو یاد کرتے اور اسے بیان کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھاکہ بچپن بہت عسرت اورتنگدستی میںگزرا، والدصاحب کاشت کاری کرتے تھےمگر پیداوار کم تھی ، لکڑی جلاکر کھانا پکایاجاتا تھا مگرلکڑی (گاؤں کی زبان میںجلاون ) مشکل سے میسر آتا تھا۔ اس لئے ہم لوگ جنگل جاکر لکڑیاں چن کرلاتے تھے تب کھانا پکتا تھا، اس کے بعد مدرسہ جاتے تھے۔ آج رب العالمین نے قرآن کریم کی برکت سے حالات کوبدل دیا اورعُسر(تنگی) کو یُسر (آسانی ) میں تبدیل فرما دیا۔ تمام قسم کی سہولتیں میسر ہیںاور قرآن کریم کی خدمت کا موقع بھی مل رہاہے۔ 
 انہوں نےاپنے استاد قاری مشتاق صاحب کویاد کرتے ہوئےکہاکہ وہ انتہائی مشفق تھے، پڑھانے کے ساتھ طلبہ کی ضروریات اور ان کی خاص طور پرخبر گیری کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ اگر کوئی طالب علم مالی طور پربہت کمزور ہے ،کفالت کا مسئلہ ہے تواس پرخاص توجہ دیتے اور اس کی ضروریات کا خیال فرماتے تھے۔ اسی کے ساتھ پڑھانے کا انداز بالکل منفرد تھا۔ ا ن کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کاایک ایک شاگرد مخارج کی ادائیگی کے لحاظ سےاوریادداشت کے اعتبار سے بالکل نمایاں رہے ، خدا کا شکر ہے کہ قاری صاحب کی اس کاوش اوراخلاص کی برکت سے ان کے پاس پڑھنےوالےبیشتر طلبہ ایک سے ایک نکلے ۔ انہیں اس طرح قرآن یادکرایا گیاکہ اس کی آج بھی مثال دی جاتی ہے ۔
 حافظ سہیل نےنئے حفاظ کے تعلق سے کہاکہ میں نےقرآن کریم کی تعلیم کے حوالے سے ۲۲؍ ۲۵؍ برسوں میں یہ محسوس کیا ہے کہ حافظ قرآن دوباتوں پر ضرور توجہ دیں، اول یہ کہ روزانہ کلام پاک کا کچھ حصہ تلاوت ضرور کریں اور دوسرے رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام کریں۔ ان پابندیوں سے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہےکہ قرآن کریم سینوں میں محفوظ رہے گا ۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK