Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے

Updated: April 08, 2026, 10:31 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذے کی مہم میں تیزی آئی جارہی ہے، ان کے ایران کے خلاف دئے گئے حالیہ غیر سفارتی بیان نے امریکی قانون سازوں میں اضطراب پیدا کردیا، جس کے بعد ان کے مواخذے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذے کی مہم میں تیزی آتی جارہی ہے، ان کے ایران کے خلاف دئے گئے حالیہ غیر سفارتی بیان نے امریکی قانون سازوں میں اضطراب پیدا کردیا، جس کے بعد ان کے مواخذے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ منگل کی صبح صدر ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ (ٹروتھ سوشل) جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ پوری تہذیب آج رات تباہ ہو جائے گی اور ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا، نے امریکی قانون سازوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب یا تو صدر کے مواخذے یا پھر۲۵؍ویں ترمیم کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات بڑھتے رہے ہیں۔
دریں اثناء ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹک قیادت نے قانون سازوں کو فوری طور پر واشنگٹن واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ووٹ لیا جا سکے، جو بدھ کو دو ہفتوں کے لیے روکی گئی تھی۔ ڈیموکریٹک لیڈرحکیم جیفریز اور دیگر اعلیٰ ڈیموکریٹ قانون سازوں کے دستخط شدہ بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ ’’مکمل طور پر پاگل‘‘ ہو چکے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے رائے شماری ضروری ہے تاکہ وہ ملک کو تیسری عالمی جنگ میں نہ دھکیل دیں۔‘‘ تاہم ایوانِ نمائندگان فی الحال پیر تک اجلاس سے باہر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ: پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، پیزشکیان: ہم قربانی کیلئے تیار ہیں

واضح رہے کہ ایران جنگ کے خلاف دو طرفہ وار پاورز ریزولوشن مارچ میں ایوان میں۲۱۹ ؍ بمقابلہ ۲۱۲؍  ووٹوں سے ناکام ہو چکی تھی، کیونکہ زیادہ تر قانون سازوں نے پارٹی لائن پر ووٹ دیا تھا۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے جو خاموشی تھی، یہاں تک کہ جب انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو معزول کیا اور کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملہ کیا، وہ ایران کے خلاف تازہ دھمکی کے بعد ختم ہو گئی۔الیکسنڈریا اوکاسیو کورٹیز نے کہا کہ ’’یہ نسل کشی کی دھمکی ہے اور اس پر عہدے سے ہٹانا ضروری ہے۔ صدر کی ذہنی صلاحیتیں زوال پذیر ہیں اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘تاہم ٹرمپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے امکانات کم ہیں، اور ان کی کابینہ کے ارکان جنہیں۲۵؍ویں ترمیم میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا ۔ وہ ٹرمپ کی علانیہ تعریف کرتے ہیں۔
تاہم سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ ٹرمپ کو کسی نہ کسی طرح عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔یہاں تک کہ امریکہ میں ایک یہودی لیڈرنے بھی صدر ٹرمپ کی ’’پوری تہذیب کو تباہ کرنے‘‘ کی دھمکی کو سراہا ہے۔ ایمی ا سپیٹلنک نے کہا کہ ’’ جب لیڈربرادریوں اور آبادیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔‘‘نیوز ویب سائٹ ’’دی ہل‘‘ نے تجزیہ کیا کہ یہ کوئی معمولی بیان نہیں بلکہ ایک عوامی اعلان ہے، اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جب خطرہ بیرونی نہ ہو بلکہ صدارتی ہو تو کیا ہوگا؟

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے اثرات: امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی سنگین چیلنج

دریں اثنا، ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن اس سے ان کے ناقدین مطمئن نہ ہو سکے۔ سینیٹ کے اقلیتی لیڈرچک شومر نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ ٹرمپ نے پیچھے ہٹ کر اپنی بےہودہ دھمکی سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیا۔اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کی واحد محرک قوت ان کا۷؍ اپریل کا بیان ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایرانی تیل کے وسائل پر قبضہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں پہلے ایک بزنس مین ہوں‘‘ اور ’’فاتح کے لیے مالِ غنیمت ہیں‘‘۔ اس طرح کی سوچ ظاہر کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ کسی حکمت عملی، قانون یا ذمہ داریوں سے نہیں بلکہ صرف دولت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK