آئی اے ٹی اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں مہینوں لگیں گے، چاہے آبنائے ہرمز کھلا رہے۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 9:57 PM IST | Istanbul
آئی اے ٹی اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں مہینوں لگیں گے، چاہے آبنائے ہرمز کھلا رہے۔
آئی اے ٹی اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی عالمی سپلائی کو بحال ہونے میں مزید وقت درکار ہے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے سربراہ نے بدھ کو کہا کہ جیٹ فیول کی قیمتوں اور سپلائی کو معمول پر آنے میں مہینوں لگیں گے، چاہے آبنائے ہرمز کھل جائے اور کھلا رہے۔انہوں نے سنگاپور میں آئی اے ٹی اے ورلڈ ڈیٹا سمپوزیم میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اگرچہ حالیہ اعلانات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً۱۵؍ فیصد کمی آئی ہے، لیکن جیٹ فیول اور دیگر مصنوعات کی عالمی سپلائی کو بحال ہونے میں مزید وقت درکار ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشرق وسطیٰ عالمی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں پر ابتدائی مثبت اثرات کے باوجود بحالی حالیہ ہفتوں میں ممکن نہیں ہوگی۔انہوں نے یاد دلایا کہ تیل کی قیمت اور ٹکٹوں کی قیمت کے درمیان تقریباً براہِ راست تعلق ہوتا ہے، اور مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ صنعت کی قیمتوں سے متعلق کارروائی کو اصل آمدنی میں ظاہر ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کردیا تھا، جہاں سے عالمی ضرورت کا ۲۰؍ فیصد ایندھن کی ترسیل ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیل کی عالمی قیمت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوگیا،متعدد ممالک کے سیکڑوں جہاز آبنائے ہرمز پر پھنس گئے، اس کے علاوہ متعدد جہازوں پر حملے کرکے انہیں تباہ کردیا گیا۔ اس کے سبب کئی جہاز متبادل راستے کے لئے طویل سفر کرنے پر مجبور ہوئے، اس کے علاوہ جہازوں کے انشورنس میں بھی ۵۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا، ان عناصر نے تیل کی قیمتوں کو اونچائی پر قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں اب جب کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، تیل کی قیمت فوری طور پر ۱۵؍ فیصد کم ہو گئی ہیں، لیکن جو آمد رفت گزشتہ ۴۰؍ دنوں سے متاثر تھی، اسے معمول پر آنے میں طویل وقت درکا ہے۔ اسی بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آئی اے ٹی اے کے سربراہ نے یہ بیان دیا۔