دہلی میں مظاہرین پر طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف فوری شنوائی کی اپیل پر چیف جسٹس کا جواب، ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کیا
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 9:47 AM IST | New Delhi
دہلی میں مظاہرین پر طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف فوری شنوائی کی اپیل پر چیف جسٹس کا جواب، ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کیا
جون کو دہلی میں پولیس کی ظالمانہ کارروائی اور طاقت کے بے استعمال کے خلاف پٹیشن پر فوری شنوائی کی درخواست کرنے پر ایڈوکیٹ نریندر مشرا کو جھڑکتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نےکہا کہ ’’ہماراوقت برباد مت کرو۔‘‘ فوری شنوائی سے کورٹ کے انکار پر جب وکیل نے عدالت سے ایک بار مظالم کے ویڈیو دیکھ لینے کی درخواست کی تو جسٹس سوریہ کانت اور بھی چراغ پا ہوگئے اورانہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ویڈیوز میں کوئی دلچسپی نہیں، ہمیں انہیں دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘ یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا وجود چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہی ایک تبصرہ کا نتیجہ ہے جس کی بعد میں انہوں نے تردید کردی تھی۔ بدھ کو ان کے اس تلخ تبصرہ نے ایک بار پھر ان کے مزاج کو عوام میں موضوع بحث بنا دیا ہے۔
گزشتہ روز دہلی ہائی کورٹ نے بھی اسی نوعیت کے ایک درخواست پر کی فوری شنوائی سے انکار کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’عدالت کو اس میں نہ گھسیٹیں۔‘‘ بہرحال بدھ کو ہائی کورٹ میں شنوائی عمل میں آئی اور عدالت نے پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کے مبینہ استعمال سے متعلق دائر ۲؍درخواستوں پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے حکام کو ہدایت دی کہ پولیس کارروائی سے متعلق تمام ریکارڈ، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ویڈیو ریکارڈنگ، محفوظ رکھی جائے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے این ہری ہرن، وکاس سنگھ اور گوپال شنکر نارائنن جیسے سینئر وکیل پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے مظاہرین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ وکلا نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ مظاہرین پرامن احتجاج کرکے اپنے بنیادی آئینی حق کا استعمال کر رہے تھے۔ دوسری طرف ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کا کہناتھا کہ یہ درخواستیں سوشل میڈیا پر موجود پوسٹس کی بنیاد پر دائر کی گئی ہیں، اس لیے یہ قابلِ سماعت نہیں ہیں۔