Updated: July 22, 2026, 8:59 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے سونم وانگچک اور طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کے اشارے پر نہیں چلتی بلکہ ’’میں اپنی اسکرپٹ خود لکھتی ہوں۔‘‘ اداکارہ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سونم وانگچک اور طلبہ کے نمائندوں سے بامعنی مذاکرات کرے، جبکہ ٹرولز کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ ان کا مؤقف کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے متاثر ہے۔
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریتی زنٹا۔ تصویر: ایکس
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پریتی زنٹا نے سونم وانگچک اور دہلی میں جاری طلبہ کے احتجاج کی حمایت کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید ٹرولنگ کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر بیانات نہیں دیتیں بلکہ ’’میں اپنی اسکرپٹ خود لکھتی ہوں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملے پر اظہارِ خیال ان کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور اسے سیاسی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پریتی زنٹا نے حال ہی میں ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے جلد از جلد بامعنی بات چیت شروع کرے۔ انہوں نے لکھا کہ سونم وانگچک کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی وہ جدوجہد جو وہ اور طلبہ ملک کے مستقبل اور نوجوانوں کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بھی درخواست کی۔
یہ بھی پڑھئے: سی جےآئی کا طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد کے معاملے پر فوری سماعت سےانکار، کہا ’ہمارا وقت ضائع نہ کریں‘
ان کے اس پیغام کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ اداکارہ کسی خاص نظریے یا سیاسی بیانیے کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس پر پریتی زنٹا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لوگ ان کے خیالات کو اپنی سہولت کے مطابق معنی نہ پہنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق بات کرتی ہیں اور ’’میں اپنی اسکرپٹ خود لکھتی ہوں، کوئی اور میرے لیے یہ کام نہیں کرتا۔‘‘ اپنے ایک اور بیان میں پریتی زنٹا نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ طلبہ کی جائز آواز کو کوئی دوسرا گروہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج اپنے اصل مقصد سے نہ ہٹے اور اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق اس بحران کا حل صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور تعمیری گفتگو سے ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہم جنتر منتر نہیں چھوڑیں گے‘‘، سی جے پی کے احتجاج کا تیسرا دن، بیرون ملک سے بھی حمایت
سونم وانگچک کی قیادت میں جاری تحریک اور طلبہ کے احتجاج نے حالیہ دنوں میں قومی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، جبکہ متعدد فلمی شخصیات بھی مختلف انداز میں اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔ پریتی زنٹا نے اگرچہ طلبہ اور وانگچک کی حمایت کی، تاہم ساتھ ہی زور دیا کہ مسئلے کا حل تصادم نہیں بلکہ پرامن مکالمہ ہے۔ ان کے تازہ بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر آزادیِ اظہار، عوامی شخصیات کے کردار اور اختلافِ رائے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔