ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے معیشت مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے ۱۰؍ارب ڈالر امداد کی اپیل ہے، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اس رپورٹ کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 10:00 PM IST | Islamabad
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے معیشت مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے ۱۰؍ارب ڈالر امداد کی اپیل ہے، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اس رپورٹ کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکہ سے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے۱۰؍ ارب ڈالر کی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ روزنامہ ڈان نے سفارتی ذرائع کے حوالے سےخبر دی کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، جو اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں، نے منگل کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی اور ۱۰؍ ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی درخواست کی۔ بعد ازاں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے اس رپورٹ کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔امریکی محکمہ خزانہ نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد کی درخواست کی منظوری کے ’’قوی امکانات‘‘ ہیں۔پاکستان کی وزارت خزانہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ اورنگزیب نے پاکستان کی روڈ ٹو مارکیٹ کے لیے امریکی حمایت حاصل کی ہے، جو بین الاقوامی سرمایہ بازاروں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے اعلیٰ ذخائر، اور بہتر خودمختار کریڈٹ ریٹنگ پر مبنی ہے۔تاہم اس بیان میں ۱۰؍ ارب ڈالر کی درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ مجوزہ سہولت ایک مالیاتی میکانزم ہوگی جس کے تحت امریکی حکومت، محکمہ خزانہ کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے، پاکستان کو قرضے یا دیگر سہولیات فراہم کرے گی تاکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جا سکے، قرضوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے، اور معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور اس نے ایک سے زیادہ بار ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
میئر ممدانی نےنیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا، آئی سی سی کےگرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کامطالبہ کیا
ذہن نشین رہے کہ حالیہ امریکہ اور ایران جنگ کے پہلے دور میں پاکستان نے جنگ بندی میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا تھا، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کا مسودہ طے پایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔شاید اسی کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی وزیر نے امریکہ کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔