• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے تینوں لیڈر اور دھرو راٹھی رہا، آج پھر مظاہرہ

Updated: October 11, 2026, 10:47 AM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئےگئے ہیں، جبکہ پارٹی نے اتوار کو دوبارہ جنتر منتر پر مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، پارٹی کے تین لیڈران اور یوٹیوبر دھروو راٹھی کو حراست سے رہا کر دیا گیا، جبکہ مظاہرین کو حراست میں لئے جانے پر اقوام متحدہ اور ہندوستان کے درمیان بیان بازی بھی سامنے آئی ہے۔

CJP leaders. Photo: X
سی جے پی کے لیڈران۔ تصویر: ایکس

کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈران ابھیجیت دپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو اتوار کی صبح حراست سے رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق، یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی سنیچرکوگروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں رات گئے رہا کر دیا گیا۔ ابھیجیت دپکے اور ان کے دو ساتھیوں کو آج دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے ان کی رہائی کا حکم دیا گیا۔ تینوں کو دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طیارہ اترنے کے کچھ ہی دیر بعد اسی طیارے کے اندر سے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ دھروو راٹھی کو گروگرام میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: چنئی میں ’چھاتروں کی گونج‘، تمل ناڈو کے مسائل پر گفتگو

آج بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اتوار کو ایک بار پھر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا منصوبہ ہے کہ وہ جنتر منتر واپس پہنچ کر اپنے مطالبات کی تکمیل تک مظاہرہ جاری رکھے گی۔ علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات برقرار رہیں گے۔ تقریباً۳۰؍ ہزار پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کی۲۰۰؍ کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ اور جنتر منتر کے اطراف بیریکیڈز کے ذریعے آمدورفت پر پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔ بتا دیں کہ سنیچر کو احتجاج کی اپیل کے بعد قومی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر حفاظتی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، شام۷؍ بجے تک تقریباً۶؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا، جبکہ مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت دپکے کو حراست میں لئے جانے پر والد کا درد چھلک اُٹھا

اقوام متحدہ کی ’غلط فہمی پر مبنی تشویش‘ پر ہندوستان کا جوابی ردعمل
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے سنیچر کو ہونے والے احتجاج سے قبل اور اس کے دوران ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لئے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس پر ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی تشویش ’’غلط فہمی پر مبنی ہے اور ہندوستان کے داخلی معاملات میں بلاجواز مداخلت کے مترادف ہے۔ ‘‘ہندوستان نے اپنے جمہوری نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا آئین شہریوں کو پُرامن اجتماع کا حق فراہم کرتا ہے۔ حکومت نے جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے ملک کے مستحکم اداروں، آزاد عدلیہ اور آزاد ذرائع ابلاغ کا بھی حوالہ دیا۔ حکومت نے مزید کہا کہ دیگر جمہوری ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی ان آزادیوں کے استعمال پر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ حکام قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور شہریوں کو اپنی شکایات کے ازالے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہندوستان نے انسانی حقوق کے ادارے پر زور دیا کہ وہ دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والے بڑے مظاہروں پر بھی اسی طرح توجہ دے۔ حکومت نے کہا کہ ایسے معاملات میں اس ادارے کا رویہ غیر جانب دارانہ اور یکساں ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: مظاہرین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

دہلی میٹرو سے متعلق تازہ اطلاع
سنیچر کی رات دہلی میٹرو کے تمام اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے دوبارہ کھول دیئے گئے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سنیچر کو اعلان کیا کہ مسافر بغیر کسی پابندی کے اسٹیشنوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کارپوریشن نے یہ بھی تصدیق کی کہ متاثرہ اسٹیشنوں پر میٹرو لائن تبدیل کرنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے، جس کے بعد مسافر معمول کے مطابق ایک لائن سے دوسری لائن پر جا سکتے ہیں۔ تاہم، احتجاج کے نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر پابندیاں عائد کئےجانے کا امکان ہے۔ مظاہرے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کے تحت ۱۰؍اکتوبر کو دہلی آنے والی کئی ٹرینوں کی خدمات بھی معطل کر دی گئی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK