Updated: October 20, 2026, 4:02 PM IST
| Dubai
ہندوستانی فٹ بال کو ایک نئی نوجوان صلاحیت ملی ہے۔ ۱۸؍سالہ حاتم علی اپنی فٹ بال صلاحیتوں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کے باعث توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے اور دبئی میں پرورش پانے والے حاتم علی نے متحدہ عرب امارات کے مضبوط کلب فٹ بال نظام میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور اب ہندوستان کی انڈر ۲۰؍ فٹ بال ٹیم کے لیے کھیل رہے ہیں۔
ہندوستانی فٹ بال کو ایک نئی نوجوان صلاحیت ملی ہے۔ ۱۸؍سالہ حاتم علی (Hateem Ali) اپنی فٹ بال صلاحیتوں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کے باعث توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے اور دبئی میں پرورش پانے والے حاتم علی نے متحدہ عرب امارات کے مضبوط کلب فٹ بال نظام میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور اب ہندوستان کی انڈر ۲۰؍ فٹ بال ٹیم کے لیے کھیل رہے ہیں۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ بیرون ملک تربیت حاصل کرنے والے نوجوان کھلاڑی بھی ہندوستانی فٹ بال کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بابراعظم کی ون ڈے ٹیم میں جگہ خطرے میں؟ شعیب اختر کا بڑا بیان
حاتم علی متحدہ عرب امارات کے معروف فٹ بال کلب شباب الاہلی دبئی کے نوجوان کھلاڑیوں کے نظام سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے کلب کی مختلف عمر کی ٹیموں میں کھیلتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنایا اور بطور فارورڈ اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ کلب کی انڈر ۱۹؍اور انڈر ۲۱؍ سطح کی ٹیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ دبئی میں تربیت کے دوران انہیں منظم کوچنگ اور مسابقتی فٹ بال کا تجربہ حاصل ہوا، جو ان کے کھیل کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
حاتم علی کو ہندوستان کی انڈر۲۰؍ قومی فٹ بال ٹیم میں شامل کیا گیا، جہاں انہیں نوجوان بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔ وہ ہندوستان کی جانب سے نوجوانوں کی سطح پر بین الاقوامی فٹ بال میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان کی شمولیت اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ ہندوستانی فٹ بال کے لیے کھلاڑیوں کی تلاش اب ملک کے اندر موجود کلبوں اور اکیڈمیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ بیرون ملک تربیت حاصل کرنے والے اہل کھلاڑیوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پریہ درشن کی۹۹؍ویں فلم میں ٹائیگر ہنٹر بنیں گے اکشے کمار، کامیڈی کے ساتھ تھرلر بھی
حاتم علی کا سفر ہندوستانی فٹ بال میں بیرون ملک پرورش پانے والے نوجوان کھلاڑیوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ دبئی میں فٹ بال کی تربیت حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کی نوجوان قومی ٹیم تک پہنچنا ان کے کریئر کا اہم مرحلہ ہے۔ اب ان کے سامنے اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے، بین الاقوامی مقابلوں میں تجربہ حاصل کرنے اور مستقبل میں سینئر قومی ٹیم کے لیے اپنی جگہ بنانے کا چیلنج ہوگا۔حاتم علی کی کہانی ان نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے جو بیرون ملک رہتے ہوئے فٹ بال میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی پیش رفت سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ بیرون ملک تربیت حاصل کرنے والے مزید باصلاحیت کھلاڑی ہندوستانی فٹ بال کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔