فالگون بینن ڈائک ناگپور میں پیدائش کے تین دن بعد ہی یتیم خانے میں چھوڑ دئیے گئے ،پھر وہ ممبئی منتقل کئے گئے، یہاں سیرو سیاحت کیلئے آنیوالے ڈچ جوڑے نے گودلیا اور پھر نیدر لینڈان کا وطن بن گیا ، فالگن کی یہیں پرورش و تربیت ہوئی، اعلیٰ تعلیم کے بعد سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور نیدرلینڈ کے ہیمسٹیڈ شہر کے میئربنے۔
فالگون بینن ڈائک ناگپور میں کھانا کھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
یہ حقیقی کہانی شروع ہوتی ہے ۱۰؍ فروری ۱۹۸۵ء کو جب ناگپور میں ایک بچے نے جنم لیا۔ ماں نے ۳؍دن کے نوزائیدہ کو ایک رات یتیم خانے کے باہر چھوڑا اور اپنے رستے ہولی۔ صبح یتیم خانے کے عملے نے بچے کو اپنی تحویل میں لیا۔ یہ بچہ ایک ماہ تک یتیم خانے میں ہی رہا۔اس کے بعد ہندوستان کی سیر پر آئے ایک ڈچ جوڑے نے اسے گود لے لیا اور اپنے ساتھ نیدرلینڈ لے گئے۔انہوں نے اسے اپنی سگی اولاد کی طرح پالا پوسا، پڑھایا لکھایا۔ اس واقعے کو آج۴۱؍ سال ہو چکے ہیں اور بچہ اب ’فالگون بینن ڈیک ‘ کے نام سے بڑا ہوکر نیدرلینڈ کے ایک شہر کا میئر بن چکا ہے۔ لیکن کہتے ہیں ناں کہ آدمی اپنی جڑوں کو نہیں بھولتا، فالگن بھی اپنی جڑوں کو ڈھونڈتا ۴۱؍ برس بعد ہندوستان چلے آئے۔ وہ اپنی حقیقی ماں کی تلاش میںسرگرداں ہیں۔
ماں نے یتیم خانے میں کیوں چھوڑا؟
سرکاری ریکارڈز کے مطابق، فالگون کی ۲۱؍سالہ ماں غیر شادی شدہ تھی، جس نے سماجی دباؤ اور خوف کے باعث اپنے بچے کو پیدائش کے تین دن بعد ناگپور کے ایم ایس ایس ادارے میں چھوڑ دیا تھا۔ یہ ادارہ یتیم بچوں اور متاثرہ خواتین کے لیے قائم ہے۔یہاں کی ایک نرس نے اس بچے کا نام ’فالگون ‘ رکھا تھا۔ دراصل ہندو کیلنڈر کے مطابق فروری کے مہینے کو فالگون کہا جاتا ہے۔ چونکہ بچے کی پیدائش بھی فروری میں ہوئی تھی، اسلئے نرس نے اسے فالگن کہنا شروع کر دیا۔ چند ہفتوں بعد فالگن کو ممبئی لایا گیا، جہاں ایک ڈچ جوڑے نے انہیں گود لے لیا۔
فالگون کی پرورش نیدرلینڈ میں ہی ہوئی۔ انہیں ہندوستان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ انہوں نے صرف جغرافیہ کی کتابوں میں نقشے پر ہندوستان کو دیکھا تھا۔ عمر کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں اپنی اصل ماں کو جاننے کی خواہش جاگی اور یہی جستجو انہیں ہندوستان لے آئی۔
حالانکہ فالگون پہلی بار۲۰۰۶ء میں۱۸؍ سال کی عمر میں ہندوستان آئے تھے۔ اس دوران انہوں نے جنوبی ہند کا سفر کیا تھا، لیکن اس بار ان کا مقصد مختلف ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے ناگپور میں واقع ایم ایس ایس کا دورہ کیا۔
فالگون کا کہنا ہے کہ ’’میں ہمیشہ ایک کھلی کتاب کی طرح رہا ہوں۔ میں نے مہا بھارت پڑھی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہر کرن کو کُنتی سے ملنے کا حق ہے۔‘‘
فالگون اپنی ماں سے مل کر یہ بات کہنا چاہتے ہیں
واضح رہے کہ فالگون نیدرلینڈ کے شہر ہیم اسٹیڈ کے میئر ہیں۔ ہیم اسٹیڈ، نیدرلینڈ کی راجدھانی ایمسٹرڈیم سے ۳۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اپنی ماں کو تلاش کرنے کے لیے فالگن نے کئی این جی اوز، بلدیاتی اداروں اور پولیس سے مدد طلب کی ہے۔فالگن کے مطابق’’مجھے لگتا ہے کہ میری ماں آج بھی مجھے چھوڑنے کے صدمے میں ہوں گی۔ میں صرف ان سے مل کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں اور خوش ہوں۔ میں بس ایک بار انہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘