• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہر یونیورسٹی کے مالیاتی معاملوں سے متعلق اعظم خان پر ای ڈی کی ایف آئی آر

Updated: October 14, 2026, 6:03 PM IST | Rampur

اترپردیش کے رامپور سے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ حال ہی میں جوہر یونیورسٹی سے جڑے مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں سے متعلق ان کے خلاف ای ڈی نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ فی الحال اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں۔

Azam Khan. Photo: INN.
اعظم خان۔ تصویر: آئی این این

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اتر پردیش کے ضلع رامپور میں سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان، مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور دیگر کے خلاف جوہر یونیورسٹی سے جڑے مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں کے معاملے میں ایک نئی ایف آئی آر درج کی ہے۔ایجنسی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا سرکاری فنڈز، ٹرسٹ کو ملنے والے چندوں اور فنڈز کا رخ موڑ کر یونیورسٹی میں تعمیراتی کاموں کیلئے استعمال کیا گیا ہےیا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایف آئی آر رامپور کے عظیم نگر پولیس اسٹیشن میں سرکاری فنڈز کے مبینہ غبن اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف

منگل کو ای ڈی کی ایک ٹیم نے منی لانڈرنگ کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں رامپور ڈسٹرکٹ جیل کے اندر اعظم خان سے پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ مبینہ طور پر تقریباً آٹھ گھنٹوں تک جاری رہی، جس دوران حکام نے ٹرسٹ کو موصول ہونے والے چندوں، تعمیراتی اخراجات اور ٹھیکیداروں اور کمپنیوں سے جڑے مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کیں۔ ای ڈی نے پوچھ گچھ کے نتائج کی تفصیلات پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایجنسی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی میں تعمیراتی کاموں پر ظاہر کئے گئے تقریباً ۴۹۴؍ کروڑ روپے کے اخراجات کی جانچ کر رہی ہے۔ تفتیش کار اس بات کا پتہ لگانے کیلئے معاون مالیاتی ریکارڈ اور اکاؤنٹس کی جانچ کر رہے ہیں کہ یہ رقم کیسے اکٹھا کی گئی اور کہاں خرچ ہوئی۔ای ڈی اس الزام کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ اتر پردیش حکومت میں اعظم خان کے بطور وزیرِ مملکت یا کابینہ وزیر کے دورِ اقتدار میں، سرکاری فنڈز سے خریدی گئی تقریباً ۸۵؍ کروڑ روپے مالیت کی تعمیراتی اشیاء نجی یونیورسٹی کے کیمپس میں استعمال کی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نےCJP لیڈرز سورَو داس، اشوتوش رانکا کی حراست کو بزدلانہ عمل قرار دیا

مبینہ طور پر ان مواد کے استعمال سے ہاسٹل، اسپتال اور پنڈال سمیت دیگر سہولیات کی تعمیر میں مدد ملی۔ یہ دعوے ان الزامات کا حصہ ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور عدالت کی طرف سے انہیں تاحال ثابت شدہ نتائج کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ ایجنسی اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا سرکاری ٹھیکیداروں نے چندے اور تعمیراتی لین دین کے ذریعے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ یا یونیورسٹی کو رقوم منتقل کی تھیں۔

اس تفتیش میں میرٹھ کے دو اداروں کی طرف سے ٹرسٹ کو دئیے گئے تقریباً ۶؍ کروڑ روپے کے چندے کا معاملہ بھی شامل ہے، جو کہ سماجوادی پارٹی کی سابق ایم ایل سی ڈاکٹر سروجنی اگروال سے جڑے ہیں، جنہوں نے بعد میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ایجنسی ان چندوں کے ذرائع اور اس راستے کی جانچ کر رہی ہے جس کے ذریعے یہ رقم ٹرسٹ تک پہنچی۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر اگروال کے میڈیکل کالج سے متعلق سی بی آئی (سی بی آئی) کی تفتیش کی بھی اطلاع دی گئی ہے، تاہم اس تفتیش کی نوعیت اور حیثیت کو جوہر ٹرسٹ کے سلسلے میں ای ڈی کی جانچ سے الگ سمجھا جانا چاہئے ۔

یہ بھی پڑھئے: رتنا گیری: راجا پور میں بچوں کے ڈوبنے کا معاملہ، ۱۵؍ سالہ بچی کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا

گزشتہ ۱۹؍ اگست کو ای ڈی نے رامپور، سہارنپور اور دہلی میں اعظم خان، ٹرسٹ اور یونیورسٹی سے جڑے ۱۰؍ ٹھکانوں پر چھاپے مارے تھے۔یہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات رامپور میں درج ۲۷؍ ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں، جن میں دھوکہ دہی، جعل سازی اور مجرمانہ سازش کے الزامات شامل ہیں۔ ایجنسی ان دعوؤں کی جانچ کر رہی ہے کہ یونیورسٹی اور ٹرسٹ نے کسانوں اور دشمن جائیدادوں کی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا تھااور اس کے ساتھ ہی جرائم سے حاصل ہونے والی کمائی کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ ای ڈی نے ٹرسٹ اور یونیورسٹی سے جڑے کئی افراد سے بھی پوچھ گچھ کی ہے، جن میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے)، یونیورسٹی کے حکام، ایک ٹھیکیدار اور سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے نصیر احمد خان شامل ہیں، جو اس سے پہلے ٹرسٹ کے جوائنٹ سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بنیاد ۲۰۰۶ء میں اعظم خان نے رامپور میں رکھی تھی۔ اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ کو ماضی میں کئی مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ ان میں سے کچھ مقدمات میں قصوروار بھی قرار دئیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK