اسرائیل روزانہ ۵۰؍ مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دے گا اور ہر مریض کے ساتھ صرف دو تیمار داروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔۲۰؍ ہزار افراد علاج کیلئے باہر جانے کے منتظر۔
مصر کے حصےمیں رفح راہداری سے گزرنے کیلئے ایمبولنس تیار کھڑی ہیں۔ تصویر: آئی این این
مصر کی جانب سے غزہ کے زخمیوں کے استقبال کے لئے سینا کے اسپتالوں میں عملہ کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب رفح سرحدی راہداری کے ذریعے غزہ میں واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔رفح راہداری کھلنے کے ساتھ ہی اسرائیل نے گزشتہ اتوار کو غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی جانچ کے لئے ایک خصوصی راہداری قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے رفح راہداری کے ذریعے غزہ واپس جانے والوں کے لئے ایک چیک پوائنٹ کا ویڈیو بھی جاری کیا ہے جہاں چہروں کی شناخت اور باریک بینی سے تلاشی کا عمل انجام دیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق واپس آنے والوں کو اس وقت تک غزہ کے دیگر علاقوں میں منتقل نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اسرائیلی چیک پوائنٹ ’ریگاویم‘ سے نہیں گزر جاتے۔ یہ کارروائی پیر سے شروع ہوئی۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے با خبر حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل روزانہ ۵۰؍ مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دے گا اور ہر مریض کے ساتھ صرف دو تیمار داروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق رفح راہداری پہلے مرحلے میں روزانہ ۶؍ گھنٹے (صبح ۹؍ بجے سے دوپہر ۳؍ بجے تک) کام کرے گی۔ یورپی یونین کا مشن رفح راہداری کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ یہ مشن اسرائیلی فوج کی نگرانی میں کرم ابو سالم راہداری کے ذریعے غزہ میں داخل ہو گیا ہے۔یہ مشن فلاڈلفی راہداری کے راستے رفح راہداری پہنچے گا تاکہ اسے فلسطینیوں کیلئے کھولا جا سکے۔
دوسری جانب غزہ میں مجمع الشفاء طبی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے خبردار کیا ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی کے لئے واضح اور مؤثر نظام نہ ہونے کی صورت میں اموات کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً ۲۰؍ ہزار مریض اور زخمی فوری علاج کے منتظر ہیں جن میں ۴؍ ہزار ۵۰۰؍ بچے شامل ہیں۔ ڈاکٹر ابو سلمیہ کے مطابق تقریباً ۲۰؍ ہزار مریض غزہ سے باہر علاج کے لئے منتقلی کے منتظر ہیں جن میں۴۴۰؍ نہایت تشویشناک حالت کے کیسز شامل ہیں جبکہ قریب ۴؍ ہزار کینسر کے مریض اور بچے ہنگامی فہرستوں میں درج ہیں۔دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے واضح کیا ہے کہ رفح کراسنگ کا کھولا جانا غزہ کے باشندوں کا حق ہے۔
اس دوران حماس نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے رکاوٹیں یا شرائط جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی میں شمار ہوں گی۔