ہندوستان کی سپریم کورٹ نے وہاٹس ایپ اور میٹا کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرو یا ہندوستان چھوڑ دو، پرائیوسی پالیسی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ انتباہ دیا۔
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے وہاٹس ایپ اور میٹا کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرو یا ہندوستان چھوڑ دو، پرائیوسی پالیسی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ انتباہ دیا۔
سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو ہندستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے سخت تنبیہ کی گئی۔ ہندوستانی سپریم کورٹ نے انسٹنٹ میسجنگ پلیٹ فارم وہاٹس ایپ کی پرائیوسی پالیسی پر کمپنی کو ڈانٹا۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت واٹس ایپ کی۲۰۲۱ء کی پرائیوسی پالیسی سے متعلق مقدمات سن رہی تھی، جو صارفین کے ڈیٹا کو میٹا اور اس کی دیگر کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ یہ پالیسی برسوں سے قانونی جانچ کے دائرے میں ہے، جس میں ریگولیٹرز اور صارفین یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ ذاتی ڈیٹا کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کہا کہ ’’بعض اوقات ہمیں بھی آپ کی پالیسیوں کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود بلڈوزر کارروائی تشویشناک: الہ آباد ہائی کورٹ
جب عدالت کو’آپٹ آؤٹ‘ کلاز کے بارے میں بتایا گیا تو عدالت نے میٹا اور وہاٹس ایپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ، ’’تو پھر دیہی بہار کے رہنے والے لوگ انہیں کیسے سمجھیں گے؟ یہ نجی معلومات کی چوری کا طریقہ ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘’’اگر واٹس ایپ پر کسی ڈاکٹر کو میسج بھیجا جائےکہ آپ طبیعت ناساز محسوس کر رہے ہیں اور ڈاکٹر کچھ دواؤں کے نسخے بھیجتا ہے، فوری طور پر آپ کو اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ وہاٹس ایپ کے گرد تنازع۲۰۲۱ء میں اس وقت شروع ہوا جب وہاٹس ایپ نے اپنی پرائیوسی پالیسی میں تبدیلیاں کیں جس سے میٹا کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ میں توسیع ہوئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہندستانی ریگولیٹرز کی طرف سے تحقیقات شروع کی گئیں۔بعد ازاں ۲۰۲۴ء میں، ہندستان کے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی آئی) نے یہ کہتے ہوئے کہ وہاٹس ایپ نے مارکیٹ میں اپنی غالب پوزیشن کا غلط استعمال کیا ہے، میٹا پر۲۱۳؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا ۔ ساتھ ہی سی سی آئی نے وہاٹس ایپ کو ہدایت کی کہ وہ صارفین کے کچھ مخصوص قسم کے ڈیٹا کو میٹا کے ساتھ اشتہارات اور کاروباری مقاصد کے لیے شیئر کرنا بند کرے۔میٹا نے اس فیصلے کے خلاف چیلنج کیا۔ جبکہ این سی ایل اے ٹی نے بعد میں جرمانے کو برقرار رکھا، ساتھ ہی محدود ڈیٹا شیئرنگ جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اب، سپریم کورٹ اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چینی دراندازی پر راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیاگیا
دریں اثناء سپریم کورٹ نے تشویش کا اظہار کیا کہ صارفین کا ڈیٹا، ہدف بنانے والے اشتہارات دکھانے یا رویے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے،چاہے میسج انکرپٹیڈ ہی کیوں نہ ہوں۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ڈیٹا پیٹرن اب بھی ذاتی عادات، دلچسپیاں اور ترجیحات کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، حتمی فیصلہ ہونے تک، سپریم کورٹ نے عارضی طور پر واٹس ایپ کو صارفین کا ڈیٹا میٹا کے ساتھ شیئر کرنے سے روک دیا ہے۔ بعد ازاں اس معاملے کا ہندستان میں ٹیک کمپنیوں کے طریقہ کار پر بڑا اثر ہو سکتا ہے۔ہندستانی صارفین کے لیے، یہ قانونی جنگ یہ طے کر سکتی ہے کہ ان کا ذاتی ڈیٹا واقعتاً کتنا محفوظ ہے۔ مزید برآں، یہ ایک پیغام دیتا ہے کہ عالمی ٹیک کمپنیوں کو ہندستان کے ڈیجیٹل قوانین کی مکمل پابندی کرنی ہوگی۔نتیجتاً،۲۱۳؍ کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جس کے بارے میں روہتگی اور کپل سبل نے آج عدالت کو بتایا کہ وہ جمع کرایا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ جنوری۲۰۲۵ء میں میٹا اور وہاٹس ایپ نے اس حکم نامے کے خلاف چیلنج کیاتھا۔ اور نومبر۲۰۲۵ء میں، قانونی ٹریبونل نے وہاٹس ایپ کے ڈیٹا شیئرنگ پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم کر دی تھی، حالانکہ اس نے جرمانہ برقرار رکھا۔