• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یمنی فوج کا حوثیوں کیخلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ

Updated: October 06, 2026, 1:42 PM IST | Agency | Sanaa

صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے حوثی باغیوں کے خلاف ’ڈان آف یمن‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

Bab al-Mandab is a crucial waterway currently controlled by the Houthis. Photo: INN
باب المندب اہم آبی گزرگاہ ہےجس پرحوثیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ تصویر: آئی این این

یمنی فوج نے حوثی تحریک کے خلاف جاری بڑے فوجی حملے کے دوران اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب ذباب علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یمنی فوجی حکام اور علاقائی ذرائع نے یہ اطلاع دی ۔یمن کے صدر اور صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے اتوار کو ’ڈان آف یمن‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور ریاستی اداروں کی بحالی ہے۔صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کو بحال کرنا، صنعا کو آزاد کرانا اور بغاوت کا خاتمہ کرنا ہے۔العلیمی نے پیر کو کہا کہ `اپنی قوم کی قوت ارادی، اپنی فوج کی بہادری اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے یمن ایک نئی صبح کی جانب بڑھے گا ۔سرکاری فوج ذباب کی جانب کہبُوب کے پہاڑی علاقے سے فوجی نقل و حرکت کے ذریعے پیش قدمی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں امریکی فوجی کمک بڑھانے کی تیاری

سرکاری فوجی دستے مغربی ساحل کے ساتھ شمال کی جانب المخا کی طرف بھی پیش قدمی کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق باب المندب اور میون جزیرے کے اطراف حوثی فورسیز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔یمنی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ تازہ حملے ملک کی سیاسی قیادت کی ہدایات پر کیے گئے۔الجزیرہ کے مطابق یمنی مسلح افواج نے حوثیوں کے قبضے سے ریاستی اداروں کو واپس لینے اور ان کی بغاوت ختم کرنے کے لیے آزادی کی جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات جنگ سے قبل کی سطح پر بحال

النزیلی نے کہا کہ ہماری مسلح افواج منظور شدہ منصوبوں کے مطابق مختلف جنگی محوروں اور محاذوں پر اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری مسلح افواج نے صعدہ، الجوف اور تعز میں حوثی جنگجوؤں کے بنیادی ڈھانچے کے ۱۱۲۲؍ اہداف کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میدانی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں جنگجوؤں  کے ۱۷۴۷؍عناصر کو غیر مؤثر بنایا گیا جبکہ۳۶۴؍ فوجی گاڑیوں، سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے یونٹس کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔اس فوجی حملے کے باعث تعز میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ تعز ایک اہم صوبہ ہے جو حوثیوں کے زیر قبضہ شمالی علاقوں کو جنوب میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے ملاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK