اسرائیلی وزیر بیزالیل ا سموتریچ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا،وزیر نے مصر کی ۱۹۷۳ءکی جنگ کی یادگار تقریب سے ایک روز قبل یہ تبصرہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 3:09 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر بیزالیل ا سموتریچ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا،وزیر نے مصر کی ۱۹۷۳ءکی جنگ کی یادگار تقریب سے ایک روز قبل یہ تبصرہ کیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو وہ جزیرہ نما سینائی سے محروم ہو جائے گا۔اسموتریچ نے اپنے گھر سے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا، ’’مصر کو ہم پر حملہ کرنے سے کیا چیز روکے گی؟ یہ سمجھنا کہ اگر وہ ہم پر حملہ کرتے ہیں تو کم از کم سینائی باقی نہیں رہے گا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایسا منظر نامہ ’’دوبارہ نہیں ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں امریکی فوجی کمک بڑھانے کی تیاری
بعد ازاں اس کےتبصرے پر مصری حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔واضح رہے کہ یہ تبصرے مصر کی۱۹۷۳ء کی جنگ کی یادگاری تقریب سے ایک روز قبل سامنے آئے ہیں، جس نے برسوں کے اسرائیلی قبضے کے بعد بالآخر جزیرہ نما سینائی کی واپسی کی راہ ہموار کی تھی۔اس سے قبل پیر کو، مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے کہا تھا کہ’’ ملک کی مسلح افواج ہر وقت اور ہر حال میں" مصر، اس کے وسائل اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حماس کے قائد پر اسرائیل کا قاتلانہ حملہ، بچ نکلنے کا دعویٰ
ذہن نشین رہے کہ مصر اور اسرائیل نے۱۹۷۸ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مارچ۱۹۷۹ء میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی حالت ختم ہوئی اور جزیرہ نما سینائی سے اسرائیل کے انخلاء کی راہ ہموار ہوئی۔تاہم یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے مصر اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ تعلقات کی بنیاد رہا ہے۔ اب جبکہ اسرائیل میں انتخاب قریب ہیں، اس قسم کے بیانات کو سیاست زدہ خیال کیا جارہا ہے، تاکہ اسرائیلی رائے دہندگان کو متاثر کیا جاسکے۔