فون ٹیپنگ کیس میں ایکناتھ کھڑسے نے بیان درج کرایا

Updated: April 08, 2022, 10:28 AM IST | Nadeem asran | Mumbai

قلابہ پولیس اسٹیشن کے باہر کہا :میں نے ۲۰۱۶ء میں مرکزکو میرے اور دیگر سیاسی لیڈران کی فون ٹیپنگ سے آگاہ کیا تھا

Eknath Kharsa leaving his car after filing the statement. (PTI)
بیان درج کرانے کے بعد ایکناتھ کھڑسے اپنی کارسے جاتے ہوئے۔ (پی ٹی آئی )

:فون ٹیپنگ معاملہ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی( این سی پی) کے  لیڈر ایکناتھ کھڑسے نے قلابہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنا بیان درج کرایا ۔ بعدازیں پولیس اسٹیشن کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے افسوس اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں  نےکہا کہ ’’میرا فون اس وقت ٹیپ کیا گیا جب میں بی جے پی میں تھا اور مجھے سماج دشمن عناصر بتا کر میرا فون  ٹیپ کیا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔‘‘
 فون ٹیپنگ معاملہ میں آئی پی ایس افسر رشمی شکلا کے خلاف قلابہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج ہے جہاں اس سے قبل خود رشمی شکلا نے مسلسل ۲؍  دن پولیس اسٹیشن حاضر ہو کر اپنا بیان درج کرایا  ۔ جمعرات کو آفیشیل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج کردہ کیس کے سلسلہ میں قلابہ پولیس نے ایکناتھ کھڑسے کا بھی بیان درج کرلیا ہے ۔ ایکناتھ کھڑسے کے بقول’’ میں نے ۲۰۱۶ء میں میرا اور دیگر سیاسی لیڈران کا فون ٹیپ کرنے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے شکایت کی تھی اور اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے اس کی جانچ کی اپیل کی تھی لیکن اس وقت بی جے پی میں ہونے کے  باوجود وہ مجھے سماج دشمن عناصر سمجھ کر میرا فون ٹیپ کراتے رہے اورآج بھی یہی کررہے  ہیں ۔‘‘
  قلابہ پولیس اسٹیشن میں بیان درج کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران ایکناتھ کھڑسے نے کہا کہ ’’میں نے ۴۰؍ سال تک بی جے پی میں رہتے ہوئے پارٹی کی خدمت کی ۔۲۰۱۶ء سے میرا فون ٹیپ کرنے کا سلسلہ جاری تھا ۔اس درمیان مجھے جب یہ معلوم ہوا کہ میری پارٹی ہی مجھے سماج دشمن عناصر سمجھتی ہے تو مجھے بے حد تکلیف ہوئی اور غصہ بھی آیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو اس کیس کی تہہ تک پہنچنا چاہئے تاکہ جن لوگوں نے یہ جرم کیا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے ۔
  ایکناتھ کھڑسے نے پولیس اسٹیشن میں بیان درج کرنے کی تفصیلات سے متعلق نامہ نگاروں کے ذریعہ پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ میں نے اپنے بیان میں جہاں ۲۰۱۶ء سے میرا اور میری طرح شیو سینا لیڈر سنجے راؤت اور دیگر لیڈران کے فون ٹیپ کئے جانے کی جانچ کی اپیل کی تھی  وہیں پولیس سے یہ بھی کہا ہے کہ اگرآئی پی ایس افسر رشمی شکلا سیاسی لیڈران کے فون ٹیپ کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے تو یہ پتہ لگایا جائے کہ انہیں فون ٹیپ کرنے کے احکامات کس نے دیئے تھے اور خفیہ تفصیلات کیسے عیاں ہوئی تھیں۔ انہوںنے شبہ ظاہر کیا کہ بی جے پی میں موجود میرے دشمنوں نے ہی میرا فون ٹیپ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ اگر رشمی شکلا نے کسی کے کہنے پر سیاسی لیڈران کے فون ٹیپ کئے تھے تو انہیں بطور پولیس افسر یہ کام نہیں کرنا چاہئے تھا۔ کھڑسے کے مطابق  میرے ساتھ بی جے پی نے جو سلوک کیا ہے، اس کیلئے میں قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کررہا ہو اور بہت جلد ہتک عزت کا کیس درج کراؤں گا ۔
 یاد رہے کہ رشمی شکلا کے خلاف فون ٹیپنگ معاملہ میں آفیسر راجیو جین نے قلابہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK