واضح اکثریت نہ ہونے سے میئر کا انتخاب اتحاد اور حمایت پر منحصر،وفاداریاں نظریاتی بنیادوں کے بجائے طاقت،دولت ، رسوخ اور ممکنہ لین دین کے گرد گھومنے لگی ہیں
بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی عمارت۔ تصویر: آئی این این
بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن میں میئر کے انتخاب نے محض ایک بلدیاتی عمل کے بجائے مکمل سیاسی طاقت آزمائی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اقتدار کا انحصار اب نظریات، اصول یا انتخابی وعدوں کے بجائے اتحاد، اندرونی رسہ کشی، ممکنہ کراس ووٹنگ اور پس پردہ سودے بازی پر آ کر رک گیا ہے۔ اس پورے سیاسی منظرنامے میں سماجوادی پارٹی ایک ایسی فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھری ہے جس کے بغیر کسی بھی اتحاد کا اقتدار تک پہنچنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
۹۰؍ رکنی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس ۳۰؍کارپوریٹروں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ بی جے پی کے۲۲؍ اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے۱۲؍ کارپوریٹر ہیں جو عددی اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود میئر کے عہدے پر دعویٰ پیش کر رہی ہے۔ یہی دعویٰ شہری حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہا ہے جہاں یہ تاثر عام ہے کہ اب بلدیاتی سیاست میں وفاداریاں نظریاتی بنیادوں کے بجائے طاقت،دولت ، رسوخ اور ممکنہ لین دین کے گرد گھومنے لگی ہیں۔
شندے سینا کے نائب لیڈر اور سابق رکن اسمبلی روپیش مہاترے کا یہ دعویٰ کہ بھیونڈی کا اگلا میئر انہی کی جماعت سے ہوگا، اسی سیاسی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے حق میں موجود کارپوریٹروں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی لیکن ان کا اصرار ہے کہ سیاسی مساوات تیزی سے شندے سینا کے حق میں تشکیل پا رہی ہے۔ ایسا ہی کچھ دعویٰ بی جے پی کے لیڈران بھی کررہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات اکثر آخری لمحات میں ہونے والی کراس ووٹنگ یا اندرونی توڑ پھوڑ کی طرف اشارہ سمجھے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت میونسپل کارپوریشن میں دو بڑے سیاسی خیمے۴۲-۴۲؍ کارپوریٹروں کے ساتھ آمنے سامنے کھڑے ہیں جنہیں عمومی طور پر سیکولر اور زعفرانی اتحاد کے نام سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر سماجوادی پارٹی کے۶؍ کارپوریٹر فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ سماجوادی پارٹی جس اتحاد کی حمایت کا اعلان کرے گی، میئر کی کرسی اسی کے حصے میں آئے گی۔
بی جے پی کی قیادت والے اتحاد میں بی جے پی کے ۲۲، شندے سینا کے۱۲؍ اور ایک آزاد کارپوریٹر شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد۳۵؍ بنتی ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ کونارک وکاس اگھاڑی کے ۴؍ اور بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے ۳؍کارپوریٹر اس اتحاد کے رابطے میں ہیں جس کے بعد ان کی تعداد۴۲؍ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ان جماعتوں کی جانب سے تاحال باضابطہ حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح کانگریس کے ۳۰؍ اور این سی پی (ایس پی) کے۱۲؍ کارپوریٹر مل کر۴۲؍ کا ہندسہ مکمل کرتے ہیں۔