انجلی دمانیا نے جنسی استحصال کے ملزم کا فون ریکارڈ پیش کیا، سب سے زیادہ روپالی چاکن کر نے بات کی، سنیل تٹکرے اور چندرکانت پاٹل بھی گفتگو کرنے والوں میں شامل
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 11:21 PM IST | Mumbai
انجلی دمانیا نے جنسی استحصال کے ملزم کا فون ریکارڈ پیش کیا، سب سے زیادہ روپالی چاکن کر نے بات کی، سنیل تٹکرے اور چندرکانت پاٹل بھی گفتگو کرنے والوں میں شامل
فرضی بابا اشوک کھرات کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ اس کے مہاراشٹر کے بیشتر بڑے لیڈران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ ان میں سے کئی اس کے عقیدتمند ہیں۔ اب معروف خاتون سماجی کارکن انجلی دمانیا نے اشوک کھرات کے کال ریکارڈ پیش کئے ہیں اور بتایا ہے کہ گزشتہ ایک سال یعنی یکم اپریل ۲۰۲۵ء تا ۱۷؍ مارچ ۲۰۲۶ء سیاسی شخصیا ت میں اشوک کھرات سے سب سے زیادہ روپالی چاکن کر نے فون پر گفتگو کی ہے۔ جبکہ ان کی بہن پرتبھا چاکن کر نے ان سے بھی زیادہ اشوک کھرات کے رابطےمیں تھیں۔ دمانیا کے مطابق اس عرصے میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ۱۷؍ بار فون پر اشوک کھرات سے گفتگو کی ہے۔ دمانیا کے مطابق ان کے پاس تمام لیڈران کے نام ہیں جو اشوک کھرات سے رابطے میں تھے ، ان میں سنیل تٹکرے ، چندر کانت پاٹل اور آشیش شیلار جیسے شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ مہایوتی حکومت میں وزیر ہیں۔
یاد رہے کہ یہ بات پہلے دن سے کہی جا رہی ہے کہ خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث فرضی بابا اشوک کھرات، کی سیاسی شخصیات سے قربت ہے۔ اس کی کئی لیڈران کے ساتھ تصاویر بھی ہیں لیکن حیران کن طور پر اب تک روپالی چاکن کرکے علاوہ اور کسی بھی لیڈر سے پولیس نے پوچھ تاچھ نہیں کی ہے۔ اب انجلی دمانیا نے اشوک کھرات کا گزشتہ ایک سال کا فون ریکارڈ حاصل کیا ہے جس میں ان کےمطابق سب سے زیادہ اگر کسی سیاسی شخصیت کا نمبر دکھائی دیتا ہے تو وہ ہیں روپالی چاکن کر۔ یہ الگ بات ہے کہ روپالی چاکن کر سے بھی زیادہ ان کی بہن پرتبھا چاکن کر نے اشو ک کھرات کو فون کیا۔
انجلی دمانیا کے مطابق روپالی چاکن کر نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں ۱۷۷؍ مرتبہ اشوک کھرات سے بات کی ہے۔ دونوںکے درمیان طویل گفتگو ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چاکن اور کھرات کے درمیان ۳۳؍ ہزار ۷۲۷؍ سیکنڈ بات ہوئی ہے۔ دمانیا کا کہنا ہے کہ ’’ روپالی چاکن کر اشوک کھرات کو اپنا ’گرو‘ کہتی ہیں لیکن گرو اور شاگردہ کے درمیان اتنی طویل باتیں نہیں ہوتیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ چاکن کر کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے کہ ان کی کھرات سے کس معاملے میں اتنی طویل باتیں ہوا کرتی تھیں۔‘‘ انجلی دمانیا کے مطابق اشوک کھرات کے اہل خانہ اور قریبی لوگوںکے بعد سب سے زیادہ باتیں روپالی چاکن کر ہی سے ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اشوک کھرات سے سب سے زیادہ باتیںکرنے والوں کی فہرست تیار کریں تو سب سے پہلے کسی ترپتی کھرات کا نام آتا ہے۔ اس کے بعد روپالی چاکن کر کا نام ہے۔ جبکہ تیسرا نام دیپک لونڈھے کا ہے۔ لونڈھے نے اشوک کھرات سے ۱۸۹؍ بار فون پر بات کی ہے۔ مجموعی طور پر ان دونوں میں ۳۰؍ ہزار ۵۲۹؍ سیکنڈ باتیں ہوئی ہیں۔ حالانکہ روپالی چاکن کر کی سگی بہن پرتبھا چاکن کر نے اس عرصے میں اشوک کھرات کو ۲۳۶؍ مرتبہ فون کیا ہے لیکن انجلی دمانیا نے ان کی گفتگو کا مجموعی وقت نہیں بتایا، ورنہ کال کی تعداد کے معاملے میں سب سے زیادہ گفتگو پرتبھا اورکھرات کے درمیان ہی ہوئی ہے۔
ایکناتھ شندے سے ۱۷؍ بار بات ہوئی
انجلی دمانیا کی پیش کردہ فہرست میں سب سے اہم نام ہے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا جنہوں نے اشوک کھرات سے ۱۷؍ مرتبہ فون پر گفتگو کی ہے۔ دمانیا کے مطابق ان ۱۷؍ میں سے ۱۰؍ ان کمنگ ہیں یعنی اشوک کھرات نے شندے کو فون کیا ہے جبکہ ۷؍ آئوٹ گوئنگ ہیں ، مطلب شندے نے کھرات کو فون کیا ہے۔ ان دونوں کے درمیان سب سےطویل گفتگو ۲۱؍ منٹ کی ہے۔ انجلی دمانیا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایکناتھ شندے کو مہاراشٹر کے عوام کو بتانا چاہئے کہ اشوک کھرات کے ساتھ ان کی کیا باتیں ہوتی تھیں۔
ان کے علاوہ چندر کانت پاٹل ( بی جے پی ) اور سنیل تٹکرے ( این سی پی) نے ۸۔ ۸؍ بار اشوک کھرات سے باتیں کی ہیں۔ جبکہ وزیر آشیش شیلار کی ایک بار اشوک کھرات سے گفتگو ہوئی ہے ۔ انجلی دمانیا کا کہنا ہے کہ عام طور پر تفتیشی ایجنسیاں اس طرح کی معلومات نکالتی ہیں لیکن میں نے خود یہ معلومات عوام کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ اتنے سنگین جرم میں ملوث شخص کے ساتھ کون کون رابطے میں تھا۔ حیران کن طور پر انجلی دمانیا نے سابق وزیر تعلیم دیپک کیسرکر کا نام نہیں لیا ۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ کیسرکر اشوک کھرات کے سب سے بڑے عقیدت مند تھے۔ وہ ہر کام کھرات سے پوچھ کر کیا کرتے تھے۔