Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں انتخابی مہم ختم، کل پولنگ، بی جےپی نے پوری طاقت جھونک دی

Updated: April 28, 2026, 10:42 AM IST | Agency | Kolkata

ٹی ایم سی نے بھرپور مقابلہ کیا، وزیراعظم یہ کہہ کر لوٹے کہ ’’اب بی جےپی سرکار کی حلف برداری میں آؤںگا۔‘‘

Mamata Banerjee Tejashwi Yadav And Farhad Hakim During The Road Show.Photo:INN
ممتا بنرجی تیجسوی یادو اور فرہاد حکیم روڈ شو کے دوران - تصویر:آئی این این
مغربی بنگال میں دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کیلئے انتخابی مہم پیر کو ختم ہوگئی۔ بدھ کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ نتائج کا اعلان ۴؍ مئی کو ہوگا۔ بنگال میں ممتا بنرجی سے اقتدار چھیننے کیلئے  انتخابی مہم میں بی جےپی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ ریاست کو چھاؤنی میں تبدیل کردیاگیا اور ملک کےوزیرداخلہ امیت شاہ یہاں خیمہ زن رہے جبکہ ٹی ایم سی نے بھی پوری قوت کے ساتھ زعفرانی پارٹی کا مقابلہ کیا اوراسے فتح  اور ممتا بنرجی کے چوتھی بار وزیراعلیٰ بننے کا یقین بھی ہے  جبکہ پیر کو وزیراعظم مودی نے انتخابی ریلیوں سے خطاب میں بی جےپی کی فتح کا یقین ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب وہ نتائج کے بعد بی جےپی حکومت کی حلف برداری میں شرکت کیلئے مغربی بنگال آئیں گے۔ 
تشہیری مہم کے آخری دن ٹی ایم سی اور بی جے پی کے ساتھ دوسری قومی پارٹیوں نے زوروشور سے مہم چلائی۔ ٹی ایم سی کی انتخابی مہم میں پیر کو تیجسوی یادو نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے ممتا بنرجی کے ساتھ روڈ شو کیا اور عوام سے ٹی ایم سی کے حق میں ووٹنگ کی اپیل کی۔  دوسرے مرحلہ میں ۲۹؍ اپریل کو بنگال کے ۷؍  اضلاع کی۱۴۲؍ نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ان اضلاع میں کولکاتا، ہائوڑہ، شمالی و جنوبی ۲۴؍ پرگنہ، ہوگلی، ندیا اور بردھمان شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں الیکشن  کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے مرکزی سیکوریٹی فورسیز کی۲۲۳۱؍ کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، جن میں سب سے زیادہ۲۳۷؍ کمپنیاں کولکاتہ میں تعینات ہوں گی۔  مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ کے آس پاس  مرکزی سیکوریٹی جوان دوسرے مرحلہ میں بھی تعینات رہیں گے۔ 
کیا ہے جھال مُڑی جوآج کل موضوع بحث ہے
 
 
مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک چھوٹی سی دکان سے بنگال کی مشہور ڈِش  ’جھال مُڑی‘ کھائی جس کے بعد سے جھال مڑی  خبروں میں ہے اور موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ بہت سے افراد کو نہیں پتہ کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے تو بہت سے لوگ اسے ممبئی کا بھیل سمجھتے ہیں تاہم بنگال کے باشندوں کے مطابق یہ ممبئی کے بھیل سے مختلف ہے جس سے وقتی طور پر ہی سہی، پیٹ  بھر  جاتا ہے۔
 
 
جھال مڑی شام کے ناشتے کے طور پر زیادہ استعمال ہوتی ہے اور ’اسٹریٹ فوڈ‘ کے طور پر راستوں کے کنارے   پر فروخت ہوتی ہے۔ بنگالی زبان میں ’جھال‘ کا مطلب تیکھا ہوتا ہے اور ’مڑی‘ کا مطلب پھولا ہوا چاول جسے ممبئی میں مُرمُرا  کہا جاتا ہے البتہ جھال مُڑی میں استعمال ہونے والا مرمرا کولکاتا کے خاص بھورے رنگ کے چاول سے بنا ہوا نیز زیادہ ’کرسپی‘ (خستہ) ہوتا ہے۔ جھال مڑی میں چند بوند سرسوں کا تیل ڈالا جاتا ہے جو اس کے تیکھے پن کی اصل وجہ ہوتا ہے۔ ممبئی کے بھیل اور جھال مڑی میں بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ جھال مُڑی میں کسی بھی قسم کی گیلی چٹنی استعمال نہیں ہوتی۔
 
 
جھال مُڑی کولکاتا اور مغربی بنگال میں انگریزوں کا راج ختم ہونے کے بعد سے عام طور پر کھائی جانے لگی ہے جو کولکاتا میں ممبئی کے وڑا پائو اور پانی پوری جیسی مشہور اور مرغوب ہے۔ ماضی میں ۲؍ سے ۵؍ روپے میں بھی مل جاتی تھی لیکن اب ۱۰؍ روپے تک دستیاب ہوتی ہے۔ اس میں کٹی مرچ، پیاز، بھنے ہوئے سینگ دانے اور لیمو کا رس  ڈالا جاتا ہے۔ کچھ افراد اچار کی طرح کچے آم کے ٹکڑے اور ہری مرچ میں ڈبو کر شیشی میں رکھ دیتے ہیں اور سرسوں کے تیل کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ کوئی اس میں اُبلے آلو، اُبلے چنے تو کوئی ناریل کا ٹکڑے بھی ڈال دیتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK