کلیان ۔ احمد نگر روڈ پر ، مسافروں سے بھری ایکووین ، تیزرفتارسیمنٹ مکسرسے ٹکرا گئی، تمام مسافر موقع ہی پر ہلاک، ۲؍ شدید طور پر زخمی
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 8:46 AM IST | Mumbai
کلیان ۔ احمد نگر روڈ پر ، مسافروں سے بھری ایکووین ، تیزرفتارسیمنٹ مکسرسے ٹکرا گئی، تمام مسافر موقع ہی پر ہلاک، ۲؍ شدید طور پر زخمی
کلیان۔احمد نگر نیشنل ہائی وے پر پیر کی صبح انتہائی اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ رائتےگاؤں کے قریب الہاس ندی کے پل پر تیز رفتار سیمنٹ مکسر اور مسافروں سے بھری ایکو وین کے درمیان ہونے والے ہولناک تصادم نے ۱۱ ہنستے کھیلتے گھروں کے چراغ گل کر دیئے۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ وین کے پر خچے اڑ گئے اور اس میں سوار تمام گیارہ مسافروں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں ۸ مرد اور ۳ خواتین شامل ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے تین نوجوان بہن بھائیوں کی موت نے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے۔
اس حادثے میں دو افراد شدید زخمی ہیں جن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق مرباڈ تعلقہ سے تھا جو کلیان سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے مگر منزل پر پہنچنے سے قبل ہی اجل کا شکار ہو گئے ۔
تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح تقریبا ساڑھے ۸؍ بجے جب مسافروں سے بھری ایکو وین کلیان سے مرباڈ جارہی تھی، تو کلیان سے کچھ فاصلے پر واقع رائتے گاؤں کے نزدیک سامنے سے آنے والے ایک سیمنٹ مکسر سے اس کی زوردار ٹکر ہوگئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹکر کی آواز اتنی خوفناک تھی کہ آس پاس کے لوگ فوراً جائے وقوعہ کی طرف دوڑ پڑے۔ مقامی لوگوں نے حادثہ کا شکار گاڑی میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کی تاہم حادثے کی شدت کے باعث کوئی بھی مسافر جانبر نہ ہو سکا۔تھانے ضلع کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر گنگادھر پرگے نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام۱۱؍ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے گوویلی کے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک ۹ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق مرباڈ سے ہے۔۲ افراد کی شناخت ہنوز نہیں ہو پائی ہے۔ پولیس ان کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے ۔ ساتھ ہی حادثے کی تفتیش بھی شروع کر دی گئی ہے۔
خونی تصادم اور انتظامیہ پر سوالیہ نشان
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق یہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ایکو ٹیکسی کے پرخچے اڑ گئے اور وہ لوہے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ تاہم اس انسانی المیے نے مقامی انتظامیہ کے طریقہ کار پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے سرکاری قتل قرار دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ رائتے پل کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی لیکن متعلقہ حکام نے سیاسی دباؤ کی خاطر جلد بازی میں اسے ون وے۔ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ ایک ہی لین پر دونوں جانب سے ٹریفک کا دباؤ اس ہولناک حادثے کی بنیادی وجہ بنا۔
اوور لوڈنگ اور انسانی جانوں سے کھلواڑ
پولیس تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی ایکو وین میں گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر سوار تھے۔ ٹرانسپورٹ قوانین کی سرعام خلاف ورزی اور متعلقہ محکموں کی چیکنگ کے نظام میں کمی نے اموات کی تعداد میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ حادثہ ایکو۔وین کی جانب سے خطرناک اوورٹیکنگ کی کوشش کے دوران پیش آیاجس میں تمام مسافروں کو اپنی جان گنوانی پڑی