ایم چناسوامی اسٹیڈیم، جہاں چھوٹی باؤنڈریز اور بیٹنگ کے موافق حالات اکثر گیند بازوں کو بے بس کر دیتے ہیں، ایک بار پھر آئی پی ایل کی سنسنی خیز شام کے لیے تیار ہے۔ اس بار لکھنؤ سپر جائنٹس، میزبان رائل چیلنجرز بنگلورو کو چیلنج دینے کے لیے تیار ہے۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 2:59 PM IST | Bengaluru
ایم چناسوامی اسٹیڈیم، جہاں چھوٹی باؤنڈریز اور بیٹنگ کے موافق حالات اکثر گیند بازوں کو بے بس کر دیتے ہیں، ایک بار پھر آئی پی ایل کی سنسنی خیز شام کے لیے تیار ہے۔ اس بار لکھنؤ سپر جائنٹس، میزبان رائل چیلنجرز بنگلورو کو چیلنج دینے کے لیے تیار ہے۔
ایم چناسوامی اسٹیڈیم، جہاں چھوٹی باؤنڈریز اور بیٹنگ کے موافق حالات اکثر گیند بازوں کو بے بس کر دیتے ہیں، ایک بار پھر آئی پی ایل کی سنسنی خیز شام کے لیے تیار ہے۔ اس بار لکھنؤ سپر جائنٹس، میزبان رائل چیلنجرز بنگلورو کو چیلنج دینے کے لیے تیار ہے، جن کا فارم ایک مربوط اور مؤثر یونٹ کی طرح حریفوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اسے محض بیٹنگ کا اچھا فارم کہنا غلطی ہوگی۔ یہ کچھ ایسا ہے جیسے طوفانی رفتار کو محض تیز چہل قدمی کہا جائے۔ اس گراؤنڈ پر آر سی بی نے رنز بنانے کو معمول بنا دیا ہے، جو حریف ٹیموں پر نفسیاتی برتری قائم کر دیتا ہے، اور اب ۲۰۰؍ رنز کا ہدف کوئی خاص کارنامہ نہیں بلکہ ایک عام سی حد بن چکا ہے۔ ابتدا میں بیٹنگ انتہائی ترتیب اور نظم کے ساتھ شروع ہوتی ہے، گویا کوئی نظام وقت کی پابندی سے چل رہا ہو، لیکن جلد ہی یہ ایک طوفانی رخ اختیار کر لیتی ہے جسے قابو میں رکھنا بالرز کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
اس سیزن میں آر سی بی کے بیٹنگ یونٹ کی قیادت وراٹ کوہلی کر رہے ہیں، جنہوں نے چار میچوں میں ۱۷۹؍ رنز بنا کر ٹاپ آرڈر پر اپنی روایتی دھاک بٹھا رکھی ہے۔ ان کے ساتھ فل سالٹ نے دھواں دھار آغاز فراہم کیا ہے، جس میں پچھلے میچ میں ۳۶؍ گیندوں پر۷۸؍ رنز کی جارحانہ اننگز بھی شامل ہے۔ دیودت پڈیکل بھی بہترین فارم میں ہیں، انہوں نے تین میچوں میں ۲۰۰؍ سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو فلوئنٹ ففٹیز کی مدد سے ۱۲۵؍ رنز بنائے ہیں، جو انہیں پاور پلے اور مڈل اوورز میں ایک خطرناک بلے باز بناتا ہے۔
مڈل آرڈر میں رجت پاٹیدار نمایاں کارکردگی کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جنہوں نے۲۱۰؍رن سے زائد کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے تقریباً ۱۹۵؍ رنز اسکور کیے۔ مڈل اوورز میں ان کی برتری نے کئی مواقع پر میچ کا رخ رائل چیلنجرز بنگلورو کے حق میں موڑ دیا۔ اس کے بعد ٹم ڈیوڈ نے اپنی زبردست فنشنگ سے اثر ڈالا، جو اس سیزن میں ۱۲؍ چھکوں اور۲۲۰؍رن سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جبکہ روماریو شیفرڈ نے ۱۷۵؍رن کے قریب اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ آخری اوورز میں ٹیم کو رفتار دی۔
حتیٰ کہ وکٹ کیپر جتیش شرما نے بھی مختصر مگر مؤثر اننگز کھیل کر رنز کی رفتار کو برقرار رکھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر رائل چیلنجرز بنگلورو واقعی ایک رنز بنانے والی مشین بن چکی ہے۔ بولنگ میں جیکب ڈفی اور بھونیشور کمار نے پاور پلے میں اہم وکٹیں لے کر مضبوط آغاز فراہم کیا، جبکہ مڈل اوورز میں کرونال پانڈیا نے کنٹرول سنبھالا اور سُیَش شرما نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کو برتری دلائی، یوں بڑے اسکور کا دفاع بھی مؤثر انداز میں ممکن ہوا۔
رائل چیلنجرز بنگلورو جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے لکھنؤ سپر جائنٹس کو اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ یہ ٹیم باصلاحیت ہونے کے باوجود اب تک تسلسل حاصل نہیں کر سکی۔ بعض اوقات بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے، مگر زیادہ تر مواقع پر یہ توازن برقرار نہیں رہ پاتا ہے۔
ایل ایس جی کے بیٹنگ لائن اپ میں بڑے نام تو شامل ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی ہے۔ ایڈن مارکرم ۱۵۲؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے چار میچوں میں ۱۰۸؍رن بنا کر سب سے قابلِ اعتماد کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے ٹاپ آرڈر پر استحکام فراہم کیا۔ تاہم، نکولس پورن اس سیزن میں جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں، انہوں نے چار میچوں میں محض ۴۱؍ رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی ۸۵؍کے قریب رہا، جو ان کے روایتی جارحانہ انداز سے بالکل برعکس ہے۔ رشبھ پنت نے محض چند جھلکیاں دکھائی ہیں، جن میں ایس آر ایچ کے خلاف ناٹ آؤٹ ۶۸؍ رنز شامل ہیں، لیکن اس کے علاوہ وہ اچھی شروعات کو بڑے اسکور میں بدلنے میں ناکام رہے۔
200+ scores in every game. We’re making it a 𝗛𝗔𝗕𝗜𝗧. 🫡🔥#PlayBold #ನಮ್ಮRCB #IPL2026 pic.twitter.com/zbUlIq9O2s
— Royal Challengers Bengaluru (@RCBTweets) April 14, 2026
مچل مارش بھی کم اسکور کرنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور ٹاپ آرڈر پر اپنی تال تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ آیوش بدونی اور عبدالصمد بھی مستقل پرفارم کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے مڈل آرڈر اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاہم، مکل چوہدری نے کے کے آر کے خلاف ۲۷؍ گیندوں پر ۵۴؍ رنز کی زبردست اننگز کھیلی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موقع ملنے پر ایل ایس جی کے پاس میچ جتانے والے کھلاڑی موجود ہیں۔
بولنگ میں محمد سمیع سب سے نمایاں رہے ہیں، جنہوں نے ۲۵ء۶؍ کے متاثر کن اکانومی ریٹ سے وکٹیں حاصل کر کے نظم و ضبط اور کنٹرول برقرار رکھا۔ پرنس یادو چار میچوں میں چھ وکٹیں لے کر موثر رہے ہیں، جبکہ اویش خان اور دگویش سنگھ راٹھی نے مڈل اوورز میں اہم کامیابیاں دلا کر ان کا ساتھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سن رائزرس حیدرآباد نے راجستھان رائلز کی جیت کا سلسلہ روکا
انفرادی کوششوں کے باوجود ایل ایس جی اب بھی ایک ایسی ٹیم ہے جو اجتماعی تال کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس میچ کو دلچسپ بناتا ہے، ایک طرف ایک طاقتور اور منظم بیٹنگ لائن اپ ہے جو بڑی آسانی سے رنز کے ڈھیر لگا رہی ہے، اور دوسری طرف ایک باصلاحیت مگر غیر متوازن ٹیم ہے جو مشکل حالات میں استحکام پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا لکھنؤ سپر جائنٹس دباؤ میں خود کو سنبھال سکے گی، یا چناسوامی کا طوفان ایک بار پھر اپنے رنگ میں میچ کا فیصلہ کرے گا؟
یہ بھی پڑھئے:حیدرآباد: بی ایم ڈبلیو میں ’’جیمز بونڈ‘‘ طرز نمبر پلیٹ، ڈاکٹر گرفتار
ٹیمیں: رائل چیلنجرز بنگلورو: رجت پاٹیدار (کپتان)، ٹم ڈیوڈ، وراٹ کوہلی، دیودت پڈیکل، جیکب بیتھل، کرونال پانڈیا، وینکٹیش ایر، وہان ملہوترا، روماریو شیفرڈ، منگیش یادو، کنشک چوہان، ساتوک دیسوال، فلپ سالٹ، جتیش شرما، جارڈن کاکس، ابھینندن سنگھ، جوش ہیزل ووڈ، راسخ سلام ڈار، بھونیشور کمار، سُویش شرما، سوپنیل سنگھ، نووان تشارہ، جیکب ڈفی، وکی اوستوال۔
لکھنؤ سپر جائنٹس: ہمت سنگھ، ایڈن مارکرم، اکشت رگھوونشی، عبدالصمد، آیوش بدونی، ارشین کلکرنی، مچل مارش، جارج لنڈے، شہباز احمد، ارجن تندولکر، رشبھ پنت، میتھیو بریٹزکے، نکولس پورن، مکل چوہدری، جوش انگلس، آکاش مہاراج سنگھ، اویش خان، محمد شامی، پرنس یادو، محسن خان، دگویش سنگھ راٹھی، منی مارن سدھارتھ، مینک یادو، اینرچ نورکیا، نمن تیواری۔