گیارہویں جماعت میں داخلہ کی کارروائی پر روک

Updated: May 23, 2021, 7:53 AM IST | saadat khan | Mumbai

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا سرکیولر ، حتمی فیصلہ ہونے تک کالج آن لائن داخلہ کی کارروائی شروع نہ کریں،طلبہ اور والدین پریشانی میں مبتلا

There is uneasiness among the students regarding the admission in the 11th. (File photo)
ویں میں داخلہ کے تعلق سے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔(فائل فوٹو) گیارہ

کووڈ ۱۹؍ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان جس پیمانے پر ہورہاہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ ساتھ ہی اس معاملہ میں مناسب فیصلہ نہ کئے جانے سے بالخصوص دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ اب بھی ذہنی دبائو میں مبتلا ہیں ۔  حکومت نے حالانکہ دسویں جماعت کا امتحان منسوخ کردیاہے  اس کےباوجود دسویں جماعت کے طلبہ اور ان کے والدین اب بھی مخمصے میں مبتلا ہیں کیونکہ حکومت نے امتحان تو منسوخ کردیاہے مگر طلبہ کے رزلٹ کے تعلق سے کسی طرح کا حتمی فیصلہ نہ کئے جانے سے طلبہ اور والدین غیر یقینی صورتحال سےدوچار ہیں۔ اسی درمیان بامبے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سےسوال کیاہےکہ امتحان منسوخ کرکے ابھی تک طلبہ کے رزلٹ سے متعلق کوئی لائحہ عمل کیوں نہیں تیار کیاگیا، اگر کوئی لائحہ عمل نہیں تیار کیاگیاتھاتو امتحان کیوں منسوخ کیاگیا اس کا جواب کورٹ میں داخل کیا جائے۔ کورٹ کی اس ہدایت کے بعد یہ افواہ پھیل گئی ہے کہ ایس ایس سی کا امتحان منعقد کیا جا سکتاہے ۔  اس سے طلبہ اور والدین ذہنی دبائومیں مبتلاہیں۔ 
 دوسری جانب یہ بھی سننےمیں آرہاہےکہ کچھ کالجوںنے گیارہویں جماعت میں آن لائن داخلے دیئے جانےکی کارروائی شروع کردی ہے جس کی وجہ سے ریاستی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے تمام جونیئر کالجوں کوسختی سے گیارہویں جماعت میں داخلہ دینےسے منع کیاہے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ اُدھوٹھاکرے نے دسویں کے امتحان سے متعلق ۲۔۳؍دنوں میں فیصلہ کرنےکا اعلان کیاہے ۔
 اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ) پونے کے ڈائریکٹر دتاتریہ جگتاپ نے ۲۱؍مئی کو تمام ڈپٹی ڈائریکٹر، ایجوکیشن آفیسر اور ایجوکیشن انسپکٹر کے نام ایک سرکیولر جاری کیاہے جس میں ریاست کے ۶؍ ڈویژن ممبئی ایم ایم آر، پونے ، پمپری چنچوڑمہانگر پالیکا کےعلاوہ ناگپور، ناسک ،اورنگ آباد اور امرائوتی میں گیارہویں جماعت کے داخلے کے تمام سینٹروںمیں آن لائن طریقے سے گیارہویں جماعت میں داخلے کی کارروائی سےمتعلق معلومات فراہم کرتےہوئے کہاہےکہ ہر سال ایس ایس سی امتحان کارز لٹ جاری ہونے کے بعد باضابطہ طورپر ریاستی بورڈ کی جانب سے گیارہویں  جماعت میں داخلے کیلئے سرکیولر جاری کیاجاتاہے ۔ بعدازیں داخلے کی کارروائی کا آغازکیاجاتاہے لیکن ۲۲۔۲۰۲۱ءکیلئے ابھی تک اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے کسی طرح کی ہدایت  جاری نہیں کی گئی ہے اس لئے کوئی کالج گیارہویںجماعت میں داخلے کی کارروائی کا آغاز نہ کریں۔ ایسا سننےمیں آیاہےکہ کچھ کالجوں نے ۲۲۔۲۰۲۱ء کیلئےگوگل فارم کی صورت میں گیارہویں جماعت میں داخلے کی کارروائی کا آغاز کردیاہے ۔ گیارہویں جماعت کے داخلے کیلئے تفصیلات منگوائی جارہی ہیں جو کہ غیر قانونی ہے۔ اس کارروائی سے دیگر طلبہ کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوںگے۔ اس لئے ریاست کے تمام کالجوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ جب تک اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے گیارہویں جماعت کے  داخلہ سے متعلق ہدایت جاری نہیں کی جائے وہ  داخلےکی کارروائی شروع نہ کریں ۔اس سے طلبہ اور والدین مخمصےمیں مبتلاہوںگے۔طلبہ اور والدین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ جب تک اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے داخلہ کے بارےمیں کوئی اعلان نہیں کیاجاتا اس وقت تک داخلہ نہ کروائیں ۔
وزیر اعلیٰ فیصلہ کریںگے
 دریں اثناء جب سے کورٹ نے اس معاملہ میں ریاستی حکومت سے سوال کیاہے کہ ایس ایس سی امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیوں کیاگیا ہے تو طلبہ اور والدین میں پریشانی بڑھ گئی ہے۔  اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ اُدھوٹھاکرے نے میڈیا سے کہاہےکہ وہ ۲۔۳؍دنوںمیں ایس ایس سی امتحان سےمتعلق حکومت کا فیصلہ جاری کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK