اسپین نے وزیر اعظم سانچیز کے خلاف ایلون مسک کے زبانی حملوں کےبعد انہیں جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا، اس سے قبل وزیر اعظم نے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر غیر قانونی مواد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 4:49 PM IST | Madrid
اسپین نے وزیر اعظم سانچیز کے خلاف ایلون مسک کے زبانی حملوں کےبعد انہیں جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا، اس سے قبل وزیر اعظم نے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر غیر قانونی مواد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
اسپین کے وزیر انصاف نے بدھ کو ارب پتی ایلون مسک پر جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام لگایا، بعد ازاںمسک نے وزیراعظم پیڈرو سانچیز پر ذاتی حملہ کیا تھا۔وزیر انصاف فیلکس بولانوس کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا،جب مسک نے اپنےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیراعظم کے سماجی نیٹ ورکس پر غیرقانونی مواد کو نشانہ بنانے والے نئے اقدامات کے اعلان کے بعد سانچیز کو ’’فاشسٹ آمر‘‘ اور ’’اسپینی عوام کا غدار‘‘ قرار دیا تھا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، بولانوس نے کہا کہ مسک کے تبصرے طاقتور ٹیک شخصیات کی براہ راست سیاست میں مداخلت کے وسیع تر خطرے کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا علاحدہ فلسطینی ریاست پر زور
تاہم بولانوس نے کہا، ’’ہم کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ارب پتی افراد اپنی دولت کا استعمال سیاسی ایجنڈے آگے بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں جو حقوق کو کمزور کرتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اب انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ہے۔ یہ ٹیک اشرافیہ، یہ سب کے شکار کرنے والے، اب براہ راست سیاست میں ملوث ہیں۔ وہ عوامی بحث میں داخل ہوتے ہیں اور ہمارے احترام، ہم آہنگی، ہمارے حقوق اور ہماری جمہوریت کو خطرہ بناتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ مسک کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب سانچیز نے کہا تھا کہ اسپین سماجی نیٹ ورکس پر غیرقانونی مواد کے خلاف کارروائی کرے گا، جس میں کمپنی کے افسران کو غیرقانونی مواد کی فوجداری ذمہ داری،۱۶؍ سال سے کم عمر صارفین کی رسائی پر پابندی اور گمراہ کن معلومات کو پھیلانے کے لیے الگورتھم میں ہیرا پھیری کو جرم قرار دینے جیسے اقدامات شامل ہیں۔بولانوس، جو صدارت کے وزیر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، نے کہا کہ ’’ارب پتی افراد جو ہمیں دھمکاتے ہیں اور ’’پیڈرو سانچیز جیسے ترقی پسند، بہادر سیاستدانوں‘‘کے بارے میں ہے جو ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور سب کے مشترکہ مفاد کا دفاع کرتے ہیں۔‘‘اس تنازعے میں اسپین کی انتہائی دائیں بازو کی اپوزیشن نے بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ووکس پارٹی کے لیڈرسانتیاگو اباسکل نے مسک کے تبصرے ایکس پر دوبارہ شیئر کیے اور سانچیز پر ’’بدعنوان مجرم‘‘ ہونے کا الزام لگایا۔تاہم سانچیز نے اب تک مسک کو براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیر غور
بعد ازاں وزیراعظم نے منگل کو دبئی میں خطاب کرتے ہوئے اسپین کی ضابطہ کاری کی کوششوں کا دفاع کیا، کہا کہ’’ ملک کسی بھی غیرملکی مداخلت کے خلاف اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کا دفاع کرے گا۔‘‘یاد رہے کہ یہ تصادم سانچیز اور مسک کے درمیان ایک ہفتے کے اندر دوسری عوامی کشمکش ہے۔جمعے کو، مسک نے اسپین کے۵؍ لاکھ سے زائد دستاویزات سے محروم تارکین وطن کو باقاعدہ بنانے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ سانچیز نے مسک کے خلائی عزائم کو نشانہ بناتے ہوئے واضح تبصرے سے جواب دیا۔سانچیز نے لکھا، ’’مریخ انتظار کر سکتا ہے، انسانیت نہیں کر سکتی۔‘‘